خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 646

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء طرح ان کے باغ میں قیامت تک نئے نئے درخت پیدا ہوتے رہیں گے۔کیونکہ ان کی تربیت سے ان کی اولاد کی اصلاح ہوگی اور ان کے ذریعہ ان کی اولاد کی۔اور اس طرح یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔بلکہ یہ تو ایسا کام ہے کہ جن کے ہاں اولاد نہ ہو انہیں چاہئے کہ یتامی کو پال کر یہ ثواب حاصل کریں لیکن جن کو اللہ تعالی نے اولاد دی ہے وہ اگر اس سے محروم رہتے ہیں تو ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے گھر میں گنگا بہہ رہی ہو لیکن وہ گندے ہاتھ لے کر بیٹھا رہے۔رسول کریم میں اللہ نے فرمایا ہے کہ جس کے ہاں دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی صحیح تربیت کرے تو میں اس کے ساتھ جنت کا وعدہ کرتا ہوں۔جس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی صحیح تربیت انسان کو جنت کا وارث بنادیتی ہے۔پس اگر تبلیغ اور تعلیم کے کام مشکل ہیں تو کم از کم اپنی اولاد کی تربیت تو کسی کے لئے مشکل نہیں کی جاسکتی۔جو کچھ تمہیں آتا ہے وہ انہیں سکھاؤ۔اور پھر بچے جو نیکی بجالائیں گے اس کے ثواب میں اسے ایک حصہ تمہیں بھی ملے گا۔اور جو شخص اتنے آسان ذریعہ کو بھی اختیار نہیں کرتا کہنا پڑے گا کہ نہ اسے جنت کی قدر ہے اور نہ اللہ تعالٰی کی خوشنودی کی پر واہ۔اس کے ایمان میں نقص ہے۔لیکن جس کے دل میں کچھ بھی قدر ہے وہ اتنا آسان طریق سن کر خوشی سے اچھل پڑے گا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ میں نیک اعمال بجالانے کی توفیق دے اور پھر یہ بھی توفیق دے کہ نیکی کو اپنے تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی اولادوں کے اندر بھی اسے پیدا کریں تا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔اور یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں ، صرف ارادہ اور نیت کی دیر ہے اور جب انسان کس کام کی نیت کرے تو خواہ وہ مشکل ہو پھر بھی آسان ہو جاتا ہے۔ا بخاری کتاب الایمان باب احب الدين الى الله عز و جل ادومه الجمعة : ٣ التحريم: ا بود ودكتاب الصلوة باب فى فضل صلوة الجماعة د ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء فى النفقة على البنات (الفضل ۱۵- دسمبر ۱۹۳۲ء)