خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 645

خطبات محمود ۶۴۵ سال ۱۹۳۲ء کے لئے کوئی بہانہ اپنے نفس سے بنا لیتے ہیں۔مگر یہ طریق بھی درست نہیں۔اس سے انسان کے اندر بزدلی پیدا ہوتی ہے۔اگر غلطی ہو جائے تو اس کا اقرار ہی مناسب ہے۔اور اگر اس طرح دنیوی طور پر نقصان بھی ہو جائے تو اخروی نقصان کے مقابلہ میں جو جھوٹ سے ہوتا ہے، اس کی کچھ حقیقت نہیں۔جھوٹ بولنے والوں کے بچے بھی جھوٹے ہوتے ہیں۔یہ مت خیال کرو کہ بچہ سمجھ نہیں سکتا کہ اس کے سامنے جھوٹ بولا جارہا ہے۔بچہ کی نظر بہت تیز ہوتی ہے۔میں نے ایک تماشہ کرنے والے کی کتاب پڑھی ہے وہ لکھتا ہے کہ سب سے زیادہ مشکل وہ کھیل ہوتا ہے جو بچوں کے سامنے کرنا پڑے۔ایک پروفیسر کو آسانی کے ساتھ دھوکا دیا جاسکتا ہے مگر بچہ کو دھوکا دینا بہت مشکل ہے۔پس اس کے متعلق بہت نگرانی کرنی چاہئے کہ بچہ جھوٹ نہ بولے۔اسے دلیر بنانا چاہئے۔اور اسے اچھی طرح سمجھا دینا چاہئے کہ اگر وہ صحیح صحیح اپنے قصور کا اعتراف کرلے گا تو اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔جب بچہ کو سچ بولنے کی عادت ہو جائے تو اس کا کیریکٹر ایسا مضبوط ہو جاتا ہے کہ وہ دنیا میں کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا۔اس کے مقابلہ میں جھوٹا آدمی کبھی حقیقی عزت حاصل نہیں کر سکتا۔اور اگر کوئی اس کے سامنے تعریف بھی کرے تو وہ محض ظاہر داری ہوگی۔وگرنہ اس کے متعلق لوگوں کے دلوں میں نفرت ہی ہوگی۔پس کوشش کرو کہ بچے بڑوں کے ساتھ بھی تعلقات میں جھوٹ سے پر ہیز کریں۔اور خدا تعالیٰ سے تعلق کے سلسلہ میں نماز کے عادی ہو جائیں۔اگر ان دونوں امور کی نگرانی کی جائے تو بہت حد تک اصلاح ہو سکتی ہے۔پس میں قادیان کے دوستوں کو بالخصوص اور بیرونی دوستوں کو بالعموم توجہ دلاتا ہوں کہ وہ ان امور کا خیال رکھیں۔اگر ہر شخص کو تبلیغ کا موقع نہ بھی مل سکے تو بچوں کی تربیت سے کسی صورت میں بھی غافل نہ ہوں۔انہیں چھوٹے چھوٹے مسائل یاد کراؤ اور بتاؤ کہ خدا سے ان کا تعلق کیا ہے ، بندوں سے کیا ہے ، سلسلہ کے متعلق موٹی موٹی باتیں بتادو - پھر خلفاء کے حالات سے آگاہ کرو۔اور نشانات الیہ یاد کراؤ۔ان باتوں سے انہیں سلسلہ کے ساتھ وابستگی پیدا ہو جائے گی۔پھر نماز کا پابند بناؤ۔بالخصوص نماز با جماعت کی عادت ڈالو اور جھوٹ سے پر ہیز کراؤ۔اگر یہ باتیں پیدا ہو جائیں تو روز بروز کے جھگڑے خود بخود مٹ جائیں گے۔میں نے دیکھا ہے قادیان میں جوں جوں جماعت بڑھتی جارہی ہے یہ نقص پیدا ہوتے جارہے ہیں۔بچوں کو مسائل سے آگاہ نہیں کیا جاتا۔نماز کی پابندی نہیں کرائی جاتی۔اور جھوٹ سے پر ہیز نہیں کرایا جاتا۔ماں باپ کا فرض ہے کہ وہ انہیں ان باتوں کا عادی بنائیں۔اور اس طرح دائمی نیکی کرنے والوں میں شامل ہوں۔اس