خطبات محمود (جلد 13) — Page 60
خطبات محمود ۶۰ بچوں کو آگے آنے دو۔کیونکہ ان کو آگے لانا ہی خدا کی بادشاہت کولا نے کا ذریعہ ہے۔ان لوگوں کے نزدیک چونکہ دنیوی ترقیات ہی بڑی کامیابی تھی اس لئے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام نے ان کے ہی محاورے کے مطابق خدا تعالیٰ کی بادشاہت کا محاورہ دنیا میں ان کی بادشاہت کے معنوں میں استعمال کیا۔اور بتایا کہ اگر یہی اخلاص بچوں کے اندر قائم رہا تو مسیحیت کی بادشاہت دنیا میں بہت جلد قائم ہو جائے گی۔دوسرا مفہوم اس فقرہ کا یہ تھا کہ بچوں کے اندر جو جوش و خروش ہے اگر بڑے بھی اپنے اندرای سم کا جوش و خروش پیدا کرلیں تو وہ خدا کی بادشاہت میں داخل ہو سکتے ہیں۔یہ بات بھی ہمارے تجربہ سے ظاہر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے بڑھیا جیسا ایمان خدا تک پہنچا سکتا ہے۔بڑھیا عورت جس بات کو صحیح اور در سمجھتی ہو خواہ لاکھ دلائل دیئے جائیں اس کے خلاف نہیں مان سکتی۔پس خدا تعالی تک پہنچنے کے لئے انبیاء جیسا ایمان یا پھر کم سے کم بڑھیا جیسا ایمان ضرور ہونا چاہئے۔یعنی ایک دفعہ صداقت کو سوچ سمجھ کر مان لینے کے بعد پھر کوئی چیز راستہ میں روک نہ ہوئی چاہئے۔اور کسی قسم کے اوہام سے قطعا متاثر نہ ہونا چاہئے۔بعض نادان فروعات کو عقل سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اصول کو تو عقل کے مطابق دیکھنا چاہئے۔مثلا یہ کہ نماز کی کوئی ضرورت ہے یا نہیں یا اسلام خدا تعالیٰ سے ملا سکتا ہے یا نہیں۔لیکن اس بات کو عقل سے سمجھنے کی کوشش کرنا کہ ظہر کے فرض چار کیوں ہیں اور فجر کے دو کیوں بیوقوفی ہے۔ایسی تفاصیل بھی روحانی طور پر سمجھ میں آسکتی ہیں۔مگر دلیل سے انہیں سمجھنا مشکل ہوتا ہے۔کوئی شخص مغرب کے چار فرض پڑھ کر دیکھ لے۔اس کے ایمان میں ضرور نقص پیدا ہو جائے گا مگر یہ دلیل کی بات نہیں بلکہ تجربہ کی ہے۔اسی طرح کوئی صبح کی نماز میں چار رکھتیں فرض پڑھ کر دیکھے۔روحانی طور پر معا تنزل حکمتیں شروع ہو جائے گا۔حالانکہ بظا ہر یہ زیادہ عبادت ہے۔تو یہ تفاصیل اپنے اندر نہایت باریک رکھتی ہیں۔اول تو انسانی دماغ سب کو سمجھ نہیں سکتا۔اور جس حد تک سمجھ سکتا ہے وہ کان سے نہیں بلکہ قلب سے سمجھ سکتا ہے۔قلب کے اندر ایک نور پیدا ہوتا ہے جس سے کسی حد تک وہ ان کی حکمتوں سے آگاہ ہو جاتا ہے پس بڑھیا جیسے ایمان کے یہ معنی ہیں کہ ایک دفعہ اصول سمجھ لے اور پھر تفاصیل کی باریکیوں میں نہ پڑے۔بچوں کی تربیت در حقیقت قومی ترقی کا ذریعہ ہے۔اس لئے اپنی اولادوں کے اندر دین کے لئے گرمی اور جوش پیدا کرو تاکہ وہ اپنی زندگی کو دنیا کے لئے مفید اور بابرکت بنا ئیں۔دنیا میں احساس ہی انسان کو کہاں سے کہاں تک پہنچا دیتا ہے۔آج