خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 633 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 633

خطبات محمود 4HP سال ۱۹۳۲ اگر دل میں اس کا احساس ہو تو بعد میں رکھنا پہلے سے بھی زیادہ ثواب کا موجب ہو گا۔ایک بزرگ کا ذکر ہے کہ ان کی فجر کی نماز فوت ہو گئی تو وہ تمام دن روتے رہے۔خدا تعالیٰ نے کہا میرے اس بندے کو نماز قضا ہونے کا اس قدر قلق ہوا ہے، اس لئے اسے تو نماز کا ثواب دیدیا جائے۔اگلے روز کوئی انہیں صبح ہی صبح جگا رہا تھا۔انہوں نے پوچھا کہ تو کون ہے۔اس نے جواب دیا شیطان - آپ نے پوچھا شیطان کا نماز سے کیا تعلق ہے۔اس نے کہا کل میں نے آپ کو سلائے رکھا اور آپ اس قدر روئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا میرے اس بندے کو اس قدر قلق ہوا ہے اس لئے اسے کو نماز کا ثواب دیدیا جائے۔میں نے سمجھا اگر آج بھی ایسا ہی ہوا تو آپ پھر اسی طرح زیادہ ثواب لے جائیں گے۔اس لئے بہتر ہے کہ ایک نماز کا ثواب ہی آپ لے لیں۔تو جو شخص دینی خدمت کے لئے کوئی عبادت ملتوی کر دیتا ہے جس کی شریعت نے اجازت دے دی ہے۔اور پھر اس کا احساس رکھتا ہے کہ اسے بہتر سے بہتر رنگ میں ادا کرے گا تو وہ بہت زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے۔ہماری جماعت کے دوست تو اس بات کو سمجھتے ہیں لیکن ممکن ہے دوسرے اعتراض کریں۔اس لئے میں نے بتا دیا ہے کہ انہیں سمجھایا جائے۔تاوہ آٹھ نو سو بلکہ ہزار کے قریب لوگ جو آتے ہیں اور جن میں سے زیادہ تربیعت کر جاتے ہیں، ان میں کمی نہ ہو پھر مرکز کی طرف سے بھی معززین کو چٹھیاں لکھی جائیں۔اور اس کے لئے اخبار میں اعلان کر کے موزوں لوگوں کے پتے معلوم کئے جائیں۔کیونکہ ممکن ہے وہ ایسے لوگوں کو لکھیں جن پر کوئی اثر نہ ہو۔لیکن بیرونی لوگ اپنے علاقہ کے ایسے افراد سے واقف ہوتے ہیں جن کو ایسی دعوت مفید ہو سکتی ہے۔ہزار بلکہ دو تین ہزار ایسی چٹھیاں لکھی جائیں اور اگر ان میں سے پچاس ساٹھ بھی آجائیں تو بہت مفید ہو سکتا ہے کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ اگر ذرا بھی رغبت ہو تو ستر اسی فیصدی بیعت کر لیتے ہیں۔بلکہ اس سے بھی زیادہ۔پس میں ایک طرف تو کارکنوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ کام صحیح طریق پر اور عمدگی کے ساتھ کریں۔اور مرکزی جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ مالی قربانی اور جانی خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے اور باہر کے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ بھی اخراجات کے لئے چندہ دیں۔خود شامل ہوں اور ایسے لوگوں کو جنہیں سلسلہ کے ساتھ رغبت ہو یا اگر تو تب بھی ہو تو اس وجہ سے کہ وہ ناواقف ہیں، اپنے ساتھ لائیں۔شاید کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ہمارے ساتھ شامل ہو جانے کی توفیق بخش دے۔