خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 632 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 632

خطبات محمود ۶۳۲ کر دیں اور اگر ان کے اپنے رشتہ دار یا متعلقین آنے والے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں انہیں گھر میں زیادہ آرام پہنچا سکیں گے کیونکہ گھر میں عورتیں بھی ان کی خدمت کر سکتی ہیں تو منتظمین سے کہہ دیں کہ اتنے ہمارے ہوں گے اور وہ انہیں بھی جگہ دے دیں۔جس طرح زکوۃ کے متعلق حکم دیا ہوا ہے کہ ادا کر دی جائے اور دینے والا کہہ دے کہ میرا فلاں رشتہ دار بھی مستحق ہے اسی طرح وہ مکان پیش کر دیں اور اپنے مہمانوں کی تعداد بھی بتا دیں۔اور منتظم اگر چاہیں تو اس میں سے ان کے مہمانوں کو بھی اتنی جگہ دیدیں جتنی عام مہمانوں کے حصہ میں آتی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ چندہ جلسہ سالانہ کی طرف پوری توجہ نہیں کی گئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک بھی ایک ماہ لیٹ ہوئی ہے۔دفتر والوں نے تو مجھے کہہ دیا تھا لیکن میں نے سمجھا کہ تحریک اگلے مہینہ میں ہونی چاہئے اس لئے دیر ہو گئی۔اس میں بھی دفتر والوں کی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے دوبارہ یاد دہانی نہیں کرائی۔ممکن ہے اس کا بھی دخل ہو لیکن میرے خیال میں جتنا اس کا اثر ہونا چاہئے تھا اس سے زیادہ پڑ رہا ہے۔تحریک بے شک پہلے ہونی چاہئے تالوگ چندہ دینے کی وجہ سے جلسہ میں شامل ہونے سے محروم نہ رہ جائیں لیکن باوجود اس کے جلسہ سالانہ خدا تعالیٰ کی نعمت ہے۔اور یہ اللہ تعالی کا فضل ہے کہ اس نے ہندوستان کے لوگوں کے لئے ایک ثواب کا ذریعہ پیدا کر دیا۔پس جو شخص امکان کے باوجود اس میں شمولیت سے پہلو تہی کرتا ہے وہ اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا دشمن ہے کیونکہ جلسہ سالانہ پر قادیان آنے سے انسان کا دل زنگ آلود ہونے سے بچ جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو فرمایا کرتے تھے کہ بار بار آنا چاہئے لیکن جو بار بار نہیں آسکتا وہ سال میں ایک بار تو آجائے۔بے شک معذوریاں بھی ہوتی ہیں لیکن جو معذوریاں بناتا ہے وہ مجرم ہے اور اپنا آپ دشمن ہے۔جو لوگ خود نہیں آتے یا بیوی بچوں کو نہیں لاتے ان کے فوت ہوتے ہی ان کے گھر سے احمدیت مٹ جائے گی۔پھر بعض لوگ اپنے غیر احمدی دوستوں اور رشتہ داروں کو لاتے ہیں اور ان میں سے خدا کے فضل سے ایک کثیر حصہ بیعت کر لیتا ہے۔انہیں بھی ضرور ساتھ لانا چاہئے۔اس سال ایک دقت یہ ہے کہ جلسہ کے معابعد رمضان شروع ہوتا ہے۔عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر باہر ہوئے تو روزہ نہیں رکھا جا سکے گا۔حالانکہ اگر ضرورت حقہ کے لئے باہر جانا پڑے تو روزہ کو دوسرے وقت پر ملتوی کر دیا بھی ثواب کا موجب ہے۔شریعت نے رمضان میں سفر کو جائز رکھا ہے ، مگر سفر کے روزہ کو نا جائز۔اس سال چونکہ رمضان قریب ہے اس لئے ممکن ہے ایک دو یا تین روزے نہ رکھے جاسکیں۔لیکن