خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 631 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 631

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء ثابت ہو گا کہ وہ خدمت کرتا ہے۔ہم اس کے متعلق یہی سمجھیں گے کہ وہ کمانے کے لئے آیا ہے۔اور رسول کریم یا اللہ فرماتے ہیں جس شخص کی ہجرت عورت کے لئے یا کسی دنیوی فائدہ کے لئے ہو وہ خدا تعالیٰ کا مہاجر نہیں بلکہ اس چیز کا ہے جس کے لئے وہ ہجرت کرتا ہے۔اس لئے جو یہاں آکر باہر سے زیادہ قربانیاں نہیں کرتا وہ آرام طلب ہے۔اور خدا تعالیٰ کی راہ میں جو جنگ یورپ امریکہ افغانستان ، ایران ، عرب، مصر، سماٹرا، جاوا، فلسطین اور شام وغیرہ ممالک میں لڑی جارہی ہے اور ان مقامات پر بھی جہاں کا ہمیں علم نہیں ، اس سے تنگ آکر اور آرام لینے کی خاطر وہ یہاں آگیا ہے پس وہ یقینا اللہ تعالیٰ کا مجرم ہے اس لئے میں پھر ایک دفعہ احباب جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ قادیان کے لوگوں کو دوسروں سے بڑھ کر نمونہ دکھانا چاہئے۔ابھی ان سے یہ مطالبہ تو نہیں کیا جاتا کہ وہ جائدادیں اور گھر بار لٹادیں اور سب کام کاج چھوڑ دیں مگر دو سروں کی نسبت ان سے زیادہ قربانیوں کی توقع کی جاتی ہے۔ہاں جب اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہو کہ سب کچھ اللہ تعالی کی راہ میں گنادیا جائے ، اس وقت بھی میں امید رکھوں گا کہ قادیان کے لوگ باہر والوں سے زیادہ اعلیٰ نمونہ دکھا ئیں مگر اس وقت تک ان سے صرف نسبتی قربانی کا مطالبہ ہے اس لئے جلسہ کے لئے جو لوگ مکان دے سکتے ہیں وہ مکان دیں۔یا اپنے مکانوں کے حصے دیدیں۔جو خدمت کر سکتے ہیں وہ خدمت کریں اور جو مالی امداد دے سکتے ہیں وہ مالی امداد دیں۔اور جنہیں خدا تعالی ہر طرح سے قربانی کی توفیق دے وہ مکان بھی دیں چندے بھی دیں اور خدمت بھی کریں۔پچھلی دفعہ بھی میرے پاس شکایت ہوئی تھی کہ بعض لوگ چندہ نہیں دیتے اور بعض جلسہ کے موقع پر معمولی بہانوں سے مکان دینے سے گریز کرتے ہیں اور کئی یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اپنے مہمان آنے والے ہیں وہ کیوں یہ نہیں کہتے کہ یہ مکان ہے اتنے ہمارے اپنے مہمان بھی ہوں گے۔اس لئے اگر ہو سکے تو انہیں کو یہ دیدیں۔وہ مکان کا مطالبہ پر تو جواب دے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے مہامان آئیں گے لیکن کھانے کے وقت کہتے ہیں تمہارے مہمان ہیں، ان کو کھانا دیا جائے۔ایسے بہانہ خور لوگ کھانے کے وقت سب سے آگے ہوتے ہیں۔اور لڑتے ہیں کہ مہمانوں کی اچھی طرح خدمت نہیں کی جاتی۔ان کی شتر مرغ کی مثال ہوتی ہے۔جب اسے کہا گیا کہ بوجھ اٹھاؤ تو اس نے کہا میں تو مرغ ہوں۔مرغ پر بھی کبھی بوجھ لادا جاتا ہے اور جب کہا اُڑ تو کہہ دیا کہ کبھی اونٹ بھی اُڑا کرتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ مکان کے مطالبہ پر تو کہتے ہیں ہمارے مہمان۔لیکن کھانے کے وقت کہتے ہیں تمہارے مہمان یا تو انہیں چاہئے کہ کان سلسلہ کے سپرد