خطبات محمود (جلد 13) — Page 615
خطبات محمود ۶۱۵ سال ۱۹۳۲ء آپ ہمارے خیالات سن لیں اور ان میں جو بات آپ کو قابل اعتراض نظر آئے اس پر بے شک اعتراض کریں۔لاہور کے دوستوں کو چاہئے تھا کہ پہلے تبلیغ ان ہی لوگوں سے شروع کرتے۔جیسا کہ میں نے ڈلہوزی کے ایک خطبہ میں بیان کیا تھا تبلیغ کے لئے تھوڑی سی دیوانگی بھی ضروری ہے۔کوئی نبی دنیا میں ایسا نہیں آیا جسے دیوانہ نہ کیا گیا ہو اور جب ہم نے ان کا ورثہ پایا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں دیوانہ نہ کہا جائے۔دیوانگی ہی دراصل حقیقی فرزانگی عطا کرتی ہے اور جنون ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کو کھینچتا ہے۔یہ ایک قسم کی دیوانگی ہی ہے کہ ایسے شدید دشمنوں کے پاس انسان تبلیغ کے لئے جائے جو ممکن ہے ماریں یا کوئی جھوٹا مقدمہ ہی بنا دیں۔مگر بہر حال یہ دیوانگی ایسی ہوتی ہے کہ دوسروں کے دلوں میں بھی بیداری پیدا کرتی ہے۔بعض جگہ دوسرے لوگوں سے دیوانگی ہوئی جو ہمارے لئے فائدہ کا موجب بن گئی۔ایک جگہ ہمارے آدمی گئے تو ان میں سے ایک نے اس مکان میں جہاں وہ جا کر بیٹھے باہر سے کنڈی لگادی تا دوسرے لوگ آکر ان کی باتوں کو نہ من سکیں۔لیکن اس کا فائدہ یہ ہوا کہ ان کے اپنے پانچ سات آدمی جو وہاں پہلے موجود تھے ، ان کو خوب تبلیغ کی گئی۔کنڈی باہر سے لگی رہی اور وہ مجبور انبیٹھے سنتے رہے۔میں سمجھتا ہوں اس وقت کی تبلیغ بھی زیادہ موثر ہوئی ہوگی۔اگر ہمارے آدمی کی طرف سے کنڈی لگائی جاتی تو ان پر اور قسم کا اثر ہو تا۔وہ اسے شرارت پر محمول کرتے اور بھڑک جاتے۔لیکن جب ان کے اپنے آدمی کی طرف سے ایسا ہوا تو ہمارے مبلغین پر غصہ نہیں ہو سکتے تھے بلکہ ان سے گونہ ہمدردی پیدا ہوئی ہوگی۔تو کچھ دیوانگی ہم سے بھی ہونی چاہئے تھی اور وہ یہ کہ شدید مخالفوں کے گھروں میں جاتے۔مثلا مولوی ظفر علی ، مولوی ثناء اللہ مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ اور ایسے مخالفوں کے مکانوں پر پہنچ کر انہیں تبلیغ کرتے۔لیکن بہر حال اس سے جو نتائج نکلے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ یہ بہت ہی مفید چیز ہے۔فی الحال یہ مشورہ تو قابل قبول نہیں کہ ماہوار یا سہ ماہی ایسا انتظام کیا جائے لیکن ششماہی ضرور ہونا چاہئے۔ہمیں اللہ تعالٰی نے دو عیدیں دی ہیں اور ان دونوں کے مقابلہ میں شکریہ کے طور پر دو تبلیغی دن ہونے چاہئیں۔خدا تعالیٰ جب ہمیں عید دیتا ہے تو میں بھی چاہئے کہ اس کے بدلہ میں اس کے بھولے بھٹکے بندوں کو راہ راست دکھا ئیں۔اور اپنے عمل سے ظاہر کریں کہ تو نے ہم پر رحم فرمایا اور خوشی بخشی ہے اس کے بدلہ میں ہم تیرے گمراہ بندوں کو تیرے دربار میں حاضر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔پس میرا منشاء ہے کہ ایک دن مارچ اپریل یا مئی میں مشورہ کے بعد مقرر کیا جائے جبکہ زمینداروں کو وقت نہ ہو۔پہلے بھی اگر چہ مشورہ کیا گیا تھا اور