خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 614

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء کے قائم مقام اور نائب ہوں گے۔اور مولوی محمد حسین صاحب کو ایمان نصیب ہونے کے یہ معنی ہوں گے کہ ان لوگوں کو بھی ہدایت مل جائے گی جو دوسروں کو راہ صداقت سے روکتے ہیں۔بہر حال مخالفوں کی مخالفت نے بھی میں فائدہ ہی پہنچایا ہے۔اور میں سمجھتا ہوں اگر یہ نہ ہوتی تو شاید ہماری تبلیغ اس سے آدھی بھی نہ ہو سکتی جتنی کہ اب ہوئی ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ بعض احمد یوں نے جو شاید عام حالات میں ستی دکھاتے جب سنا کہ مخالف کہہ رہے ہیں کہ وہ ہماری باتوں کو نہیں سننے دیں گے۔تو ان کے دل میں بھی جوش پیدا ہوا کہ ہم بھی تبلیغ کریں گے۔جماعت میں بیداری اور دوسروں میں دلچسپی پیدا ہوئی اس کے نتیجہ میں بیعتیں بھی ہو ئیں اور بہت سے لوگوں نے بیعت کی۔مگر میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت بیعت اپنی ذات میں مقصود نہ تھی بلکہ اس کے اصل نتائج دو چار ماہ تک انشاء اللہ تعالٰی نکلیں گے۔اس سے ایک طرف تو جماعت میں بہاری ہوگی اور زیادہ تبلیغ کا شوق بڑھے گا۔اگر کسی کو مخالفوں کے سامنے ندامت اٹھانی پڑی ہے تو وہ آئندہ کے لئے مطالعہ کر کے اپنی قابلیت بڑھائے گا اور جنہیں کامیابی ہوئی ان کے حوصلے بڑھ گئے ہیں وہ اور زیادہ جوش سے کام کریں گے۔غرضیکہ بہت سے فوائد حاصل ہوں گے اور کچھ تازہ تازہ پھل بھی مل گئے ہیں۔اس سے جماعت میں ایک عام احساس پیدا ہو گیا ہے کہ ہم سے پہلے سستی ہوئی ہے اور آئندہ زیادہ توجہ سے وہ کام کریں گے۔بعض نے وعدہ کیا ہے کہ وہ با قاعدہ ٹریکٹ شائع کیا کریں گے۔غیر احمدیوں کی طرف سے ہمارے مبلغوں کو جو جواب ملے وہ بھی بعض صورتوں میں حوصلہ افزا ہیں۔کئی لوگوں نے انہیں آتے دیکھ کر کہا کہ ہم پہلے ہی انتظار میں تھے اور دروازے کھول کر آپ کی آمد کے منتظر بیٹھے تھے۔بعض جگہ لطائف بھی ہوئے۔ایک جگہ ایک مولوی صاحب نے لوگوں سے کہا کہ اپنے دروازے بند رکھو تا کوئی احمدی تمہارے ہاں نہ آسکے۔لوگوں نے تو کیا بند کرتے تھے البتہ وہ خود دروازہ بند کر کے بیٹھا رہا اور جو بھی آکر اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا وہ یہ سمجھ کر کہ کوئی احمدی آیا ہے اندر سے گالیاں دینے لگ جاتا۔آخر ایک احمدی جو وہاں مدرس ہیں اس کے مکان پر گئے اور آواز دی اس نے آواز پہچان کر کہا معاف کرنا آج تو تمام دن آپ کے احمدیوں نے ستامارا ہے۔میں سمجھتا ہوں ایک چوک ہوئی۔ہماری لاہور کی جماعت کے دوستوں کو چاہئے تھا کہ سب سے پہلے تبلیغی وفد زمیندار اور حریت کے دفتر بھیجتے۔دوست جو صبح ہی صبح ان کے ہاں پہنچ جاتے اور کہتے ہم اس لئے آئے ہیں کہ آپ نے آج ہمارے خلاف جلسہ کر کے تقریریں کرنی ہیں۔پہلے