خطبات محمود (جلد 13) — Page 602
خطبات محمود ۶۰۲ 69 سال ۱۹۳۲ء الله ہر گھڑی میں صراط مستقیم طلب کرو (فرمودہ ۷ - اکتوبر ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مذہب کی اصل غرض جیسا کہ تمام ان لوگوں کا اس پر اتفاق ہے جو خدارسیدہ ہوئے ہیں تعلق بالله اور شفَقَتْ عَلَى خَلْقِ الله ہے۔یعنی ایک طرف انسان کا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو اور دوسری طرف اس کا سلوک خدا تعالیٰ کے بندوں کے ساتھ اس قسم کا ہو کہ رحم ، عفو درگزر اور شفقت کا پہلو غالب رہے۔یہ دونوں چیزیں بظاہر دو مختصر فقروں میں آگئی ہیں لیکن حقیقتاً یہ اتنی مختصر نہیں بلکہ تمام انسانی اعمال انہیں کی تفسیر ہیں۔خواہ وہ اعمال بُرے رنگ کے ہوں یا اچھے رنگ کے۔دیکھو انسان جو کچھ بھی سوچتا ہے وہ یا مخلوق سے تعلق رکھتا ہو گا یا خالق سے۔اب اگر اس کا خیال غلط راستہ پر ہو گا تو بھی انہی دو فقروں کی توضیح اور تفسیر ہو گی کو مخالفانہ رنگ میں اور اگر اس کا خیال غلط طریق پر نہیں بلکہ اچھے امور کی طرف ہے تو بھی انہی کی توضیح و تفسیر ہوگی لیکن موافقانہ اور اچھے رنگ میں۔یہی حال انسانی اعمال کا ہے کہ یا تو وہ خالق سے تعلق رکھتے ہوں گے یا مخلوق سے۔اور پھر یا نیک اور اچھے ہوں گے یا خراب اور بڑے۔پھر انسان کے اعمال میں اتنی وسعت پائی جاتی ہے کہ دنیا کے تمام علوم اور اس کی تمام کتابیں ان پر حاوی نہیں ہو سکتیں لیکن اپنے اعمال افعال اور خیالات کی اتنی وسعت کے باوجود انسان ایک بات بھی ایسی نہیں نکال سکا جسے یقینی کہا جاسکے۔دوسری چیزوں کو تو رہنے دو وہ خود اپنی ذات کے متعلق بھی کسی یقینی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکا سوائے ان باتوں کے جن کے متعلق خدا تعالیٰ نے بتلایا کہ یہ حقیقی اور یقینی ہیں۔لیکن وہ امور بھی بچے اور یقینی صرف مؤمن کے لئے ہی ہیں کافراور خدا کے منکر کے لئے وہ بھی نہیں۔