خطبات محمود (جلد 13) — Page 603
خطبات محمود ٢٠٣ سال ۱۹۳۲ء لوگ کس وثوق اور یقین سے کہا کرتے ہیں کہ یہ جو سورج چڑھ کر آیا ہے کون بے وقوف اسکا انکار کر سکتا ہے لیکن سائنس کی موجودہ تحقیقات نے ثابت کر دیا ہے کہ روشنیاں بھی فاصلہ طے کرنے میں وقت لیتی ہیں۔سو اس نظریہ کے مطابق نتیجہ یہ نکلا کہ جب سورج میں پڑھ رہا نظر آتا ہے وہ چڑھ نہیں رہا ہو تا بلکہ چڑھ چکا ہوتا ہے اور جس وقت غروب ہو رہا دکھائی دیتا ہے وہ غروب نہیں ہو رہا ہو تا بلکہ غروب ہو چکا ہوتا ہے۔اسی طرح اب نئی تحقیقاتوں سے معلوم ہوا ہے کہ روشنیاں ٹیڑھی چلتی ہیں۔پہلے تو صرف یہی معلوم ہوا تھا کہ ہم وقت کا صحیح اور درست اندازہ نہیں لگا سکتے لیکن روشنیوں کے ٹیڑھے چلنے کی وجہ سے ہم یقینی طور پر یہ بھی معلوم نہیں کر سکتے کہ اس کا مقام کہاں ہے۔غرض ان اصول کے پیش نظر ہم سورج کے چڑھنے کا نہ تو وقت مقرر کر سکتے ہیں نہ اس کا مقام و جگہ۔اور جب سورج ایسی بدیہی چیز کے متعلق ہم درست اور صحیح فیصلہ نہیں کر سکتے تو اور کون سی چیز ہے جس کو ہم یقینی اور قطعی کہہ سکیں۔پھر نہ صرف یہ بلکہ اور بھی تمام شبہات جو سائنس کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں وہ ہمیں اسی طرف لے جارہے ہیں کہ یقینی بات سوائے خدا کی بتائی ہوئی کے اور کوئی نہیں ہو سکتی۔جب بھی سائنس نے ترقی کی ہے دنیا میں سفسطه پیدا ہوا ہے۔لوگوں کے قلوب سے اعتماد و یقین کم ہو نا گیا ہے۔اور یہ بات زیادہ وضاحت سے ثابت ہوتی چلی گئی ہے کہ حقیقی اور تحقیقی چیز کوئی ہے ہی نہیں۔اور یہ اس حقیقت کے باوجو د ہے کہ انسان کی جستجو اتنی وسیع ہوتی چلی جاتی ہے جس کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے۔انسان کیا ہے، کس طرح پیدا ہوا اس کے فرائض و وظائف کیا ہیں وہ آزاد ہے یا نہیں غرض ہزاروں سوالات ہیں جو ابھی تک حل شدہ نہیں۔ایک بکری کے متعلق ہم ہر روز یہ دیکھتے ہیں کہ وہ بندھی ہوئی ہے یا نہیں۔ایک بیل کے متعلق ہم روزانہ فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ بندھا ہوا ہے یا آزاد ہے۔ایک بھینس کے متعلق دیکھتے ہیں کہ اس وقت بندھی ہوئی ہے یا کھلی۔لیکن اپنی ذات کے متعلق انسان فیصلہ نہیں کر سکا کہ وہ مختار ہے یا مجبور۔ایسے وقت میں اگر اس دنیا سے باہر کی کوئی ہستی آکر لوگوں کو اس بحث میں مشغول پائے کہ آیا انسان خود مختار ہے یا مجبور تو وہ یہی کہے گی کہ یہ لوگ کتنے بے وقوف ہیں اپنے متعلق اتنا بھی نہیں جانتے کہ آزاد ہیں یا نہیں ؟ غرض انسانی اعمال کی وسعت اس قدر ہے کہ کوئی ایک شخص کے اعمال کا بھی احاطہ کر سکتا۔اور یہ اتنا بھاری کام ہے کہ اس کی عظمت کا اندازہ لگانا بھی نا ممکن ہے۔پھر بھی ہم ان سب اعمال کو ان دو فقروں میں ادا کرتے ہیں تعلق بِاللهِ اور شَفَقَتْ عَلَى خَلْقِ اللهِ تعلق باللہ تو نہیں 39