خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 569

خطبات محمود ۵۶۹ سال ۱۹۳۲ء کے معاملہ میں دخل انداز نہ ہونے چاہئیں۔پس جب انصاف کا معاملہ در پیش ہو تو انسان کو چاہئے کہ صفت ربوبیت کو سامنے رکھ کر عمل پیرا ہو۔اور اسی کے مطابق اپنے لئے راہ عمل تجویز کرے۔جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے کئی لوگ روگرداں ، برگشتہ اور غافل ہوتے ہیں۔بلکہ کئی اس کی ہستی کا انکار کرنے والے بھی دنیا میں موجود ہوتے ہیں لیکن باوجود اس کے سب کی ربوبیت ہو رہی ہے۔سب کو کھانا ملتا ہے۔کھانے سے سب کا پیٹ بھرتا ہے۔اور ایسے لوگوں کے لئے بھی خدا تعالی کی رحمت بند نہیں ہوتی۔تو یہی حال مؤمن کا بھی ہونا چاہئے کہ اس کا انصاف وسیع ہو۔اور اس کی ہمدردی کسی قسم کے تعصب کے دائرہ میں محدود نہ ہونے پائے۔اگر دنیا میں لوگ اس پر عمل پیرا ہو جائیں تو بہت جلد دنیا سے فتنہ و فساد دور ہو کر حقیقی امن و سکون قائم ہو جائے۔ان دنوں ہمارے ملک میں جو آفت آئی ہوئی ہے کہ لوگ آپس میں دست و گریباں ہو رہے ہیں۔ان میں لڑائیاں شروع ہیں یہ بھی صفت ربوبیت کے بھلا دینے کا نتیجہ ہیں۔دیکھو! ایک ہندو ذہنیت کی اسی وسعت کو چھوڑتے ہوئے تمام سیاسی اور تمدنی امور میں مسلمانوں کا حق غصب کر کے بھی ہنود کو ہی ترجیح دیتا ہے اور پسند کرتا ہے کہ اس کی تمام امداد ایک ہندو کو ہی پہنچے۔اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کسی دوسرے کا حق پامال نہ ہو۔جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں بھی ہندوؤں کی دیکھا دیکھی یہ تعصب پیدا ہو رہا ہے۔حالانکہ دنیا میں کسی ملک کی ترقی بغیر اتحاد اور بغیر ایک دوسرے سے موافقت اور یگانگت کے نہیں ہو سکتی۔ہندو فرقہ واری کے خلاف زبان سے تو شور مچاتے ہیں اور بڑے زور سے کہتے ہیں کہ ملک میں فرقہ وارانہ خیالات نہیں ہونے چاہئیں لیکن ان کے صرف یہ اقوال ملک میں امن نہیں قائم کر سکتے جبکہ ان کا اپنا عمل ان کے خلاف ہے۔اور اکثر دیکھا جاتا ہے کہ حکومت کے دفاتر میں مسلمان ملازمین کو ان کی طرف سے ہر قسم کی تکلیف دی جاتی ہے۔ان کے خلاف بلا وجہ اور جھوٹے کیس بنائے جاتے ہیں۔یہ تکلیف زدہ لوگ جب اپنے مسلمان بھائیوں اور دوسرے دوستوں کو ایسے واقعات بتاتے ہیں تو ضرور ہے کہ باقی مسلمانوں کا دل اپنے تکلیف زدہ بھائیوں کی تکلیف پر غم زدہ ہو اسی طرح اگر مسلمان ایسا کریں اور ہندوؤں کو بلاوجہ تکلیف دیں تو دوسرے ہندوؤں کا جوش اور غصہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتا ہے۔پس جب حالات یہ ہوں تو ملک کس طرح آرام کا سانس لے سکتا ہے۔جبکہ ہر قوم اس کوشش میں ہے کہ دوسروں کے حقوق تلف کر کے خود ترقی حاصل کی جائے تو ملک میں