خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 568

خطبات محمود ۵۶۸ 65 ہماری ہمدردی کا دائرہ وسیع ہونا چاہئے فرموده ۲ ستمبر ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) سال ۶۱۹۳۲ تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔گلے میں خراش ہونے کی وجہ سے میں زیادہ تو نہیں بول سکتا لیکن نہایت اختصار کے ساتھ ایک ضروری امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔سورۃ فاتحہ جو قرآن مجید کی تمام سورتوں میں سب سے پہلی سورۃ ہے اس کی سب سے پہلی آیت جو بسم اللہ کے بعد آتی ہے۔اس میں بظاہر تو اللہ تعالٰی کی ایک صفت ہی بیان کی گئی ہے لیکن در حقیقت اس میں ایک نصیحت بھی کی گئی ہے۔فرمایا الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہ اللہ تعالیٰ سب جہانوں کا رب ہے۔اسے کسی خاص قوم اور خاص جماعت کی رعایت ، نظر نہیں بلکہ بلا کسی لحاظ کے سب کی ربوبیت فرماتا ہے۔یہ وہ چیز ہے جس کی طرف بہت کم لوگوں کو توجہ ہے۔دیکھو اللہ تعالیٰ کسی کو دوستوں عزیزوں کے ساتھ محبت رکھنے سے منع نہیں کرتا۔اخوت اور برادری کے تعلقات رکھنے سے نہیں روکتا۔بلکہ ایسا کرنے سے تو انسان اس کے حضور ثواب کا مستحق ٹھرتا ہے۔لیکن اخوت رشتہ داری یا دوستی کے سبب کسی کے ساتھ ناجائز رعایت یا طرفداری کو بھی پسند نہیں کرتا۔جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ نہیں دیکھتے کہ آخر ہر بندہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کی صفات کے ذریعہ سے ہی ہے۔اب وہ لوگ اس کی صفات پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس کی صفات میں سے صفت ربوبیت سب پر حاوی ہے اور سب سے یکساں سلوک ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمدردی کے لئے انسان دوستیاں قائم کرتا ہے اور اسی طرح دوستیوں کے نتیجہ میں باہمی سلوک اور ہمدردی ہوتی ہے۔لیکن یہ دوستیاں اور تعلقات انصاف