خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 549 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 549

خطبات محمود ۵۴۹ سال ۱۹۳۲ء طرح داخل ہوئے اس لئے تم سے چوروں کا سا سلوک ہوا۔اگر دوستوں کی طرح داخل ہوتے اور پہلے اجازت لے لیتے تو پھر تم سے دوستوں کا سا سلوک کرتا۔پس میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قرآن مجید سے تفصیلی ایمان حاصل کرنے کی کوشش کریں۔آج کل یہاں ایک لوکل انجمن بنی ہوئی ہے۔مجھے افسوس ہے کہ اس میں قطعاً قرآن مجید کی تفاصیل کو مد نظر نہیں رکھا جاتا۔کئی قاضی ایسے مقرر کئے گئے ہیں جنہیں شاید قرآن مجید کی ایک آیت کا صحیح ترجمہ بھی نہ آتا ہو۔پھر وہ کئی ایسے فیصلے کرتے ہیں جنہیں جب میں پڑھتا ہوں تو حیران ہو تا ہوں کہ یہ کس شریعت کے ماتحت کئے گئے ہیں۔محض اپنے دماغ پر زور دے کر فیصلے کئے جاتے ہیں۔اور دماغ بھی وہ جو غیر تربیت یافتہ اور اپنے صحیح مقام سے ہٹا ہوا ہے۔اگر تم نے فیصلے ہی کرنے ہیں تو کیوں قرآن کے ماتحت نہیں کرتے اور کیوں محض اپنی عقلی تجاویز پر زور دیتے ہو۔اللہ تعالٰی فرماتا ہے ذلِكَ الْكِتُبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ اس میں کوئی ایسی بات نہیں جو بنی نوع انسان اور خصوصانی کی جماعت میں داخل ہونے والوں کو نقصان پہنچا سکے۔اور اگر تمہیں نقصان پہنچتا ہے اور تم دیکھتے ہو کہ تمہارے امور میں خلل واقع ہو رہا ہے تو اس کی ایک ہی وجہ ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ تم قرآن مجید سے فیصلہ نہیں کرتے۔کوئی شخص قرآن کو چھوڑ کر فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔اگر وہ قرآن کی باتوں کو نظر انداز کر کے دنیا میں امن قائم کرنا چاہتا ہے تو بھی وہ نقصان اٹھائے گا اور اگر جانتے ہوئے ادھر توجہ نہیں کرتا تو بھی نقصان اٹھائے گا۔یہی ایسی کتاب ہے جو تمہارے لئے خضر راہ ہے اور یہی ایسی کتاب ہے جو قیامت تک تمہارے لئے خضر راہ رہے گی۔کوئی بھی شخص ہو خواہ وہ احمدی ہو یا غیر احمدی ، عیسائی ہو یا ہندو کوئی شخص فائدہ حاصل نہیں کر سکے گا جب تک وہ صحیح طور پر قرآن مجید کے بتائے ہوئے امور کو مد نظر نہ رکھے گا۔پس یا د ر کھو قرآن جو آیا ہے وہ ہمارے لئے عمل کے لئے آیا ہے۔ہم سے پہلے وہ لوگ تھے جو غلافوں میں لپیٹ کر قرآن رکھ دیتے تھے اور کبھی اسے پڑھنے یا سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تھے۔پھر تم آئے اور تم نے پچھلوں سے ترقی کی تم نے قرآن مجید کو پڑھا اور اس کے معافی سمجھنے کی بھی کوشش کی اور خدا کے فضل سے ایک کثیر حصہ جماعت نے اس میں ترقی کی لیکن اگر کچھ حصہ بھی عمل کے وقت قرآن کو نظر انداز کر دیتا اور اپنے نفس کے پیچھے چلتا ہے تو وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم رہتا ہے۔پس تم اللہ تعالیٰ کا قرب ڈھونڈنے کی کوشش کرو اور خالی نجات کی فکر نہ کرو جو اگر انسان نہ پیدا ہو تا تب بھی اسے حاصل ہوتی۔ایسی نجات کا فر کو مطلوب ہوتی ہے