خطبات محمود (جلد 13) — Page 511
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء گورنمنٹ کو تو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ وہ خیال کرتی ہے اس نے اس فتنہ کو دیا دیا ہے۔حالانکہ پہلے یہ ظاہر میں فتنہ تھا اب پوشیدگی میں لوگوں کے اخلاق اور ملک کے امن کو برباد کر رہا ہے اور پوشیده فتنه زیاده خطرناک ہوتا ہے۔ختنہ کی مثال پھوڑے کی سی ہوتی ہے اور اندر کا پھوڑا بہت زیادہ مہلک ہوتا ہے۔کیونکہ پتہ نہیں ہو تاکہ اس کا زہر دل کی طرف چلا جائے یا جگر کی طرف۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم ان خطرات کا مقابلہ کریں لیکن ہمارا مقابلہ امن کے ساتھ ہونا چاہئے جیسے کشمیر کی تحریک میں ہوا۔میں نے آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے مقابلہ کی تحریک کی۔اور اس میں اللہ تعالٰی نے میری مدد کی۔ورنہ میں یہاں بیٹھا ہوا کیا کر سکتا تھا۔اگر لیڈروں کے دل خونریزی کی طرف مائل ہو جاتے تو میں کچھ بھی نہ کر سکتا۔مگر اللہ تعالٰی نے ان کے دلوں میں بھی وہی تحریک پیدا کردی جو میرے دل میں اٹھی۔پس نیک نیتی کے ساتھ امن کی حدود کے اندر رہتے ہوئے اس تحریک کا مقابلہ کرو۔اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ گورنمنٹ سے ہماری رشتہ داری ہے۔ہم وقت پر اس کی غلطیوں سے بھی اسے آگاہ کرتے ہیں۔لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ انگریز نہیں کوئی بھی حکومت ہو اگر کانگریس کا طریق عمل اختیار کیا جائے تو ہر حکومت کے لئے سخت مشکلات پیش آئیں گی۔اور اس کے علاوہ ہمارے لئے تبلیغ کرنا مشکل ہو جائے گا۔میں اپنی۔جماعت کے تمام دوستوں کو خواہ وہ یو پی کے ہوں یا بنگال کے پنجاب کے ہوں یا مدراس کے بہار کے ہوں یا بمبئی وغیرہ کے نصیحت کرتا ہوں کہ ان کا فرض ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ و السلام کے مشن کے مطابق دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کریں۔محض لیکچروں میں زبانی اس امر کے کتنے کا کیا فائدہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام دنیا میں امن کا پیغام لے کر آئے تھے۔اثر محض باتوں سے نہیں ہو تا بلکہ کام سے ہوتا ہے۔اگر تم اپنی جانوں کو اپنے مالوں کو اور اپنی عزیز سے عزیز متاع کو امن کے قیام کے لئے قربان کر دو تو لوگ کہیں گے یہ جو کچھ کہتے ہیں دکھاوے کے لئے نہیں کہتے بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھا دیتے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ اس خطبہ کی اشاعت پر تمام جماعت اس فتنہ و فساد کی روک تھام کے لئے منظم کوشش عمل میں لائے گی۔میں نے ایک سکیم بھی تجویز کی ہے جس کے ماتحت پچیس سال تک کے تمام نوجوانوں کو منظم کیا جائے گا۔اور اس پر پہلے قادیان میں عمل شروع ہو گا اور بیرونی جماعتوں میں بعد میں۔لیکن علاوہ اس تنظیم کے ہماری جماعت کے ہر فرد کو حکومت کی اس معاملہ میں مدد کرنی چاہئے کیونکہ امن کا قیام ہمیشہ ہی ضروری ہوتا ہے خواہ اپنی حکومت ہو خواہ