خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 510

خطبات ۵۱۰ سال ۱۹۳۲ دے رہے ہیں اور ان میں بہت سے مخلص کارکن نہیں۔جب میں شملہ گر تو مجھے کانگرس کے ایک پریذیڈنٹ سے جن کا نام مجھے یاد نہیں رہا ملنے کا موقع ملا۔میں نے دیکھا کہ وہ نہایت خاموش طبیعت کے اور بچے آدمی ہیں۔ان سے لوگ ہنسی مذاق بھی کرتے مگر انہیں پتہ ہی نہ ہو تاکہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ایسے انسان سے مل کر کام کرنا یا اس سے ذاتی دوستی پیدا کرنا نہایت ہی پر لطف بات ہے۔پس میں اگر کانگرسیوں کے مقابلہ کے لئے کہتا ہوں تو کانگرسی اصول کے لحاظ سے ورنہ دوستی کے لحاظ سے میں انہیں بہت بہتر سمجھتا ہوں۔اور ان کی ذات سے دشمنی رکھنا غلط سمجھتا ہوں۔نہ انگریز ہمارے سگے بھائی ہیں نہ کانگرسی سوتیلے بھائی بلکہ دونوں ہمارے بھائی ہیں۔انسانی لحاظ سے ایک ہندو ایک انگریز میں فرق ہی کیا ہے۔سوائے اس کے کہ ایک انگریز ہے اور ایک ہندو۔پس دونوں ہمارے بھائی ہیں اور میرے دل میں ہر قوم کے اچھے لوگوں کے لئے عزت ہے چاہے وہ مسلمان ہوں یا ہند و یا انگریز۔ہاں جو لوگ غلط طریق اختیار کریں ہم ایسے لوگوں کے اس طریق کو بُرا کہیں گے۔پس ہمارا کام یہ ہونا چاہئے کہ ہم پیار محبت اور استقلال کے ساتھ ان خلاف آئین تحریکوں کا مقابلہ کریں۔میں اپنی جماعت کے تمام افراد کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ جہاں کہیں ہوں انارکسٹوں کی تحریک کی نگرانی رکھیں اور یہ کبھی خیال نہ کریں کہ اس کے بدلہ میں گورنمنٹ سے انہیں کیا ملے گا۔میں تو جب کسی مونہہ سے ایسی بات سنتا ہوں مجھے یوں معلوم ہوتا ہے کہ میری کمر نوٹ گئی۔دراصل یہ ہمارا اپنا کام ہے۔گورنمنٹ نے ملک سے فتنہ و فساد کو روکنے کی ذمہ داری خود اپنے اوپر لی ہے اور ہم پر فتنہ و فساد کے روکنے کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے۔گورنمنٹ نے تو اس فرض کو اپنے سریوں لے لیا جیسے پنجابی زبان میں کہتے ہیں " آپے میں رچی بچی آپے میرے بچے جیون - " مگر ہم نے تو خود بخود اس فرض کو نہیں اٹھایا بلکہ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نبی مبعوث کیا اور اس نے کہا کہ تمہارے یہ یہ فرائض ہیں۔پس جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کام ہمارے سپرد ہوا ہے تو ہمیں کسی انعام کا طالب ہو کر اسے سرانجام دینے کا خیال بھی نہیں کرنا چاہئے۔اور ابھی تو ہندوستان میں ہی ہمیں اس فتنہ کے مقابلہ کے لئے تیاری کرنی ہے پھر نہ معلوم کسی وقت انگلستان، امریکہ چین اور جاپان میں فسادات ہوں اور ہمیں وہاں بھی ان کے مٹانے کی سعی کرنی پڑے۔مگر پہلے گھر والوں کا حق ہو تاہے۔پھر جوں جوں اللہ تعالیٰ توفیق دیتا جائے ، ہمار ا دائرہ عمل بھی وسیع ہوتا چلا جائے گا۔پس میں جماعت کو پورے زور سے نصیحت کرتا ہوں کہ وہ خلاف امن تحریکات کی خبر گیری کریں اور وقتاً فوقتاً مجھے اطلاعات بھیجتے رہیں۔