خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 436

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء بھی ہیں جن کی حالت کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے۔گزشتہ ایام میں میں نے کشمیر کے لئے چندہ کی تحریک کی تھی۔دو ماہ تو خوب کوشش کی گئی مگر اب پھر بند ہے حالانکہ کام پہلے سے بھی زیادہ ہو گیا ہے۔گویا ایسی حالت ہے جیسے کسی نے افیون کھائی ہوئی ہو اور اسے بار بار ہلانا پڑتا ہو۔باہر کی جماعتوں نے تو اس کی طرف توجہ کی ہے لیکن قادیان کی جماعت نے اس میں پوری طرح حصہ نہیں لیا۔پر ایک دوستوں نے چندے دیتے ہیں لیکن اس اصول پر نہیں جو میں نے مقرر کیا تھا کہ باقاعدہ ایک پائی ٹی روپیہ چندہ دیا جائے۔بعض محکموں نے اس پر عمل کیا ہے مگر یہاں باقی آبادی کارکنوں سے زیادہ ہے۔اس طرف بھی مزید توجہ کی ضرورت ہے۔یہ کام ابھی بند نہیں ہوا بلکہ بڑھ رہا ہے۔جب قادیان والوں میں استقلال نہ ہو تو باہر والے معذور ہیں۔یہ مظلوم قوم کے لئے قربانی بالکل معمولی ہے۔پس میں دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ استقلال سے کام کیا کریں اور جب کوئی کام کرنے کا وعدہ کریں تو انتہاء تک کرتے جائیں۔اور پھر اگر کسی تحریک میں حصہ لیں تو دوسری تحریکات کو نہ بھول جائیں۔مثلا یہ آخری مہینہ بجٹ پورا کرنے کا ہے۔اگر اس کی تحریک کی جائے تو باقی ضروری تحریکوں کو نہ بھول جائیں۔نیکی یہ ہے کہ سارے پہلو پر نظر ہوں۔مکان چاروں دیواروں سے بنتا ہے۔خزانہ اسی عمارت میں رکھا جا سکتا ہے جو شش جہت سے محفوظ ہو۔یعنی نیچے اوپر اور چاروں طرف سے۔روحانیت بھی اسی طرح ہے۔یہ بھی اسی صورت میں محفوظ رہ سکتی ہے جب ہر پہلو مکمل ہو۔جو ایک پہلو کو بچاتا ہے۔اور باقیوں کا خیال نہیں کر تامین ممکن ہے شیطان کسی طرف سے حملہ آور ہو اور اس کے ایمان کو لوٹ کے لے جائے۔انسان کو اپنی طرف سے پوری کوشش کرنی چاہئے۔اس کے باوجود اگر کوئی کو تا ہی رہ جائے تو خد اتعالیٰ بنیا نہیں۔جب وہ دیکھتا ہے کہ اس کا بندہ ہمت اور پورے زور کے ساتھ کوشش کر رہا ہے تو وہ سارے قرضے معاف کر دیتا بلکہ اپنے پاس سے بھی دیدیتا ہے لیکن جو کوشش ہی نہیں کرتاوہ ضرور مواخذہ کے نیچے ہے۔الفضل ۲۸ اپریل ۱۹۳۲ء) ا بخاری کتاب الايمان باب احب الدين الى الله عز و جل ادومه ل بخارى كتاب التوحيد باب قول الله وجوه يومئذ ناضرة الى ربها ناظرة