خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 435

خطبات محمود ۴۴۳۵ سال ۱۹۳۲ء تو ایک عادت ہے۔جس طرح ایک شخص کسی خاص کیفیت یا عادت کے ماتحت کچھ کرتا جاتا ہے۔میں ایک دفعہ اپنے مکان میں ٹہل رہا تھا گلی میں دو سکھ جارہے تھے۔ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا او پرتاب سنگھا پکوڑے کھانے آں او پرتاب سنگھا پکوڑے کھانے آں۔میں نے جو گلی میں سے جھانکا تو دو سر سکھ گلی کے دوسرے سرے پر جاچکا تھا۔مگروہ وہیں دیوار سے ٹیک لگائے کے جارہا تھا۔اوپر تاب سنگھا پکوڑے کھانے آں۔بعینہ یہی حالت ہمارے بعض دوستوں کی ہوتی ہے۔جس بات پر خطبہ پڑھا جائے۔اس ہفتہ بس وہی کام کرنے کا انہیں خیال ہو جاتا ہے اور باقی سب ختم ہو جاتے ہیں۔وہ یہ نہیں خیال کرتے کہ ہم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے فلاں خطبہ والی نیکی کی تھی یا نہیں بلکہ یہ سوال ہو گا کہ ساری نیکیاں کی تھیں یا نہیں۔خطبہ کی غرض صرف یاد دلانا ہے۔اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ اگر کوئی کسی نیکی کو بھول جائے تو یاد دلا دیا جائے لیکن صرف اسے شروع کر کے باقی کو فراموش کر دینا تباہ کن ہے۔اور یہ روحانیت کو قتل کرنے کا افسوسناک طریق ہے۔جب کسی خاص امر کی طرف متوجہ کیا جائے تو چاہئے کہ اس پر بھی عمل کریں اور باقی بھی نہ چھوڑیں اور برابر کرتے جائیں۔جب تک کہ خود نہ کہا جائے کہ بس کرو۔میں نے گزشتہ سال نصیحت کی تھی کہ دوست ہفتہ میں کم از کم ایک دن تجد ضرور پڑھا کریں۔کئی دوستوں نے پڑھنا شروع کیا۔مگر بعض نے پھر کچھ عرصہ کے بعد بند کر دیا۔پھر چندہ خاص کی تحریک ہوئی اور ناظر صاحب بیت المال نے مجھے بتایا ہے کہ بعض دوست جن کی طرف بقائے رہ گئے تھے جب ان کو پھر تحریک کی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ اب تو ہمارے بھائی دے چکے۔اب ہمارے دینے کی کیا ضرورت ہے۔فرض کرد قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان سے کہے کہ اب تمہارے بھائی جنت میں چلے گئے تم دوزخ میں چلے جاؤ۔اگر وہ اس جواب کو مان لینے پر آمادہ ہیں تو بے شک چندہ کی ادائیگی کے متعلق یہ جواب دے دیں۔وگر نہ چندہ تو ہر مؤمن پر فرض ہے۔جب تک کوئی اپنا حصہ ادا نہیں کر لیتا اس کے لئے تو دو زخ ہی ہے۔پھر میں نے صلح کی تحریک کی اور دوستوں نے آپس میں خوب صلح کی لیکن اب میں دیکھتا ہوں پھر لڑائیاں شروع ہو گئی ہیں۔جب اس تحریک کی طرف توجہ تھی تو تبلیغ کی طرف سے غافل ہو گئے اور پھر جب تبلیغ کی طرف متوجہ کیا گیا تو چندہ کو بھول گئے۔اگر خطبات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہو تو یہ نہیں ہونا چاہئے کہ جس امر کی طرف توجہ دلائی جائے اس کے سوا باقی سب چھوڑ دو۔بلکہ یہ طریق ہونا چاہئے کہ باقی کے ساتھ اسے بھی شامل کر لو۔اگر چہ مخلصین کی ایک جماعت ہے جو ہر نیکی میں ترقی کرتی ہے لیکن بعض ایسے