خطبات محمود (جلد 13) — Page 432
خطبات محمود 52 ہر نیکی استقلال کے ساتھ کرنی چاہئے (فرموده ۲۲ اپریل ۱۹۳۲ء) سال ۱۹۳۲ء تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- رسول کریم می لیہ کے متعلق احادیث میں آتا ہے کہ آپ نے فرمایا بہترین نیکی وہی ہے جس پر انسان استقلال کے ساتھ قائم رہے۔جو حالت بطور ایک دورہ کے ہوتی ہے وہ حقیقی نہیں بلکہ ایک مرض کا نشان ہوتی ہے۔جس طرح ایک دماغی مرض والا انسان کبھی ہنسے تو ہنستا ہی چلا جاتا ہے رونے لگے تو روتا ہی جاتا ہے کھانے لگے تو بس ہی نہیں کرتا اگر سوتا ہے تو سوتا ہی رہتا ہے اور جاگنے لگے تو ہفتوں اسے نیند ہی نہیں آتی ان تمام باتوں میں اس کے ارادہ کا دخل بالکل نہیں ہوتا۔اور کسی فعل پر اسے سزا نہیں دی جاتی اسے کوئی نہیں پوچھتا کہ اس قدر رو تا یا ہنستا یوں ہے بلکہ اس کا علاج کرتے ہیں اس کا رونا رنج پر اور ہنسنا خوشی پر دلالت نہیں کرتا۔سونا غفلت کی اور بیداری ہوشیاری کی دلیل نہیں ہوتی اسی طرح روحانی حالت میں بھی انسان پر ایسے اوقات آتے ہیں جب وہ کسی بیرونی اثر یا دماغی نقص کی وجہ سے ایک خاص حالت کو انتہاء تک پہنچا دیتا ہے اگر نماز پڑھنی شروع کرتا ہے تو حد ہی کر دیتا ہے۔لیکن کچھ عرصہ کے بعد اگر اسے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا بالکل چھوڑ چکا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا نمازیں پڑھنا روحانی حالت کی ترقی کیوجہ سے نہ تھا کیونکہ اگر خدا کے لئے وہ پڑھتا تو چھوڑ نہ دیتا۔وہ ایک بیماری تھی جس طرح زیادہ کھانے یا زیادہ سونے کی بیماری ہوتی ہے اسی طرح زیادہ نمازیں پڑھنے کی بیماری بھی ہو سکتی ہے۔مجھے ایک دفعہ لاہور کے پاگل خانہ میں جانے کا اتفاق ہوا جہاں سارے پنجاب کے پاگل رکھے جاتے ہیں ان میں سے ایک پاگل کو میں نے دیکھا جو شطرنج کھیلتا تھا اور یہ شوق اس پر ایسا سوار تھا کہ