خطبات محمود (جلد 13) — Page 402
خطبات محمود 49 سال ۱۹۳۲ء مؤمن کی نگاہ ہر طرف ہونی چاہئے ( فرمودہ یکم اپریل ۱۹۳۲ء) تشهد و تعوذ اور سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- میں نے سال کے شروع میں دوستوں کو نصیحت کی تھی کہ آپس کے تنازعات مٹاکر آپس میں صلح اور محبت و الفت کی بنیاد قائم کریں۔اور جن دوستوں نے کسی کا کوئی قصور کیا ہو یا نہ بھی کیا ہو اور دو سراغلط فہمی کی وجہ سے ناراض ہو گیا ہو تو اس سے معافی مانگ لیں۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے ہماری جماعت کے دوستوں کو اس نصیحت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور میں دیکھتا ہوں ہزار ہا دوستوں نے ان ایام میں آپس میں صلح کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن گئے۔جس طرح ایک دفتر کا آدمی یا ایک تاجر کم سے کم سال کے بعد اپنے حسابات صاف کرتا ہے اسی طرح اگر ہماری جماعت کے دوست بھی آپس کے حسابات صاف کر دیا کریں تو بہت سے نقائص اور عیوب دوز ہو سکتے ہیں۔ہم ہر سال بلکہ ہر ماہ اپنے قرض خواہوں کے قرض اتارنے کی فکر کرتے ہیں۔اور جس شخص میں شرافت کا احساس ہوتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ لوگوں کے اس پر جو حقوق ہیں ، انہیں ادا کر دے۔مگر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قرض ادا کرنے کا کوئی دن مقرر نہیں کیا جاتا۔حالانکہ اگر سالانہ حساب بھی کیا جائے تو کئی ایسے قرضے ہو سکتے ہیں جنہیں ادا کرنے کی توفیق انسان کو مل سکتی ہے۔مثلا یہی ایک قرض ہے کہ لوگ آپس میں محبت سے رہیں۔اسے اتارنے کی توفیق پانا کوئی مشکل امر نہیں۔بسا اوقات عارضی جوش میں دو دوست لڑ پڑتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب ہم میں صلح نہیں ہو سکتی۔مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ کیفیت دور ہو جاتی ہے "۔