خطبات محمود (جلد 13) — Page 382
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء سے ، بعض اپنی طبیعت سے بعض اپنی عادت سے اور بعض اپنی بیماریوں کی وجہ سے اچھی چیز کو برا سمجھتے ہیں اور کئی ایسے ہوتے ہیں جن کی پیدائش ہی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہر چیز میں نیکی ہی نیکی دیکھتے ہیں اور یہ انبیاء کا گر وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ پیدائش سے بھی پہلے اپنی حفاظت میں لے لیتا ہے۔اس سے نیچے اتر کر بعض لوگ ایسے ہوتے کہ وہ اپنی پیدائش کی وجہ سے تو نہیں لیکن اپنی طبیعت کے لحاظ سے ایسے واقعہ ہوتے ہیں کہ وہ ہر چیز میں نیکی دیکھتے ہیں کیونکہ ان کا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ ان پر دوسری چیزوں کا ہمیشہ نیک اثر پڑتا ہے پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی عادت ایسی بنالی ہوتی ہے کہ وہ نیکی ہی نیکی دیکھیں۔ان کی طبیعت ایسی نہیں ہوتی لیکن انہوں نے کوشش کر کے اپنے آپ کو ایسا بنا لیا ہوتا ہے کہ وہ جس چیز کو دیکھیں اس کا نیک پہلو ان کے سامنے نمایاں ہو جائے۔پھر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی عادت کی وجہ سے تو ایسا نظر نہیں آتا لیکن انہیں ایسے سامان میسر آجاتے ہیں کہ وہ ہر چیز کو اچھا دیکھتے ہیں۔ان کے مقابلہ میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی فطرت کی وجہ سے ہر چیز کو برا سمجھتے ہیں۔کچھ اپنی طبیعت کی وجہ سے ہر چیز کو برا سمجھتے ہیں۔یعنی ان کا ماحول ایسا ہوتا ہے کہ ہمیشہ برا پہلوان کی آنکھوں کے سامنے آتا ہے۔پھر کچھ لوگ ایسی عادت ڈال لیتے ہیں کہ وہ ہر چیز میں برائی دیکھیں۔اور کچھ بیماریوں کی وجہ سے ایسے چڑ چڑے ہو جاتے ہیں کہ انہیں ہر چیز بری ہی نظر آتی ہے۔ایک ہی جگہ بیٹھنے والوں ، ایک ہی قسم کا کام کرنے والوں اور ایک ہی مقصد رکھنے والوں کو دیکھ لو ان میں نمایاں فرق نظر آئے گا۔ریل کے کسی کمرہ میں داخل ہو جاؤ ، تمہیں نظر آئے گا کہ ایک شخص کے چہرہ پر تو مسکراہٹ نمودار ہوگی اور وہ نہایت بشاشت سے کہے گا کہ آئے تشریف لائیے ، بہت جگہ ہے۔مگر دوسرا شخص گھبرایا ہوا نظر آئے گا اور وہ آنے والوں کو یوں سمجھے گا کہ گویا اس پر ایک آفت اور مصیبت آگئی۔وہ بے اختیار ہو کر چلائے گا کہ ساری دنیا اسی کمرہ میں آگھسی ہے۔ارے میاں کوئی اور بھی کمرہ ہے یا بس یہی کمرہ رہ گیا۔یہ دونوں شخص ایک ہی جیسے ماحول میں سے گزر رہے ہوتے ہیں مگر ایک کو دیکھ کر یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا باؤلا کتا ہمیں کاٹنے لگا ہے اور دوسرے کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ وہ گویا پرانا دوست ہے جو ہم سے ملا ہے۔یہ اختلاف طبائع میں جو ہمیں دنیا میں نظر آتا ہے اس کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے انسانی اندازے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر ہم صرف انہیں پر انحصار رکھیں تو ہمیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔اگر ہر جگہ ہمارا اندازہ صحیح ہو تو ہمیں یہ تفاوت نظر نہ آئے جو دنیا میں نظر آتا ہے۔ایک