خطبات محمود (جلد 13) — Page 324
خطبات محمود ۳۲۴۴ سال ۱۹۳۲ء مصافحہ کی نیت سے بیٹھے تھے سارا قصور انہی کا تھا اور وہی مصافحہ سے محروم رہنے کے قابل تھے مگر دو سروں کا حق تھا کہ وہ مصافحہ کر لیتے۔میں نے دیکھا ہے حضرت خلیفہ اول بعض دفعہ جب زیادہ بیمار ہوتے تو فرما دیا کرتے کہ دوست اٹھ کر چلے جائیں۔اس پر بعض لوگ چلے جاتے اور بعض پھر بھی بیٹھے رہتے اس وقت آپ فرمایا کرتے نمبردار بھی اٹھ کر چلے جائیں۔ایک دفعہ میں بھی آپ کی مجلس میں بیٹھا تھا۔آپ نے فرمایا لوگ چلے جائیں اس پر بعض لوگ اٹھے اور میں بھی اٹھ کر جانے لگا تو آپ نے روک لیا اور فرمایا تم ٹھہرو۔یہ سن کر کچھ اور لوگ بھی بیٹھ گئے۔تب آپ نے فرمایا کہ نمبردار بھی اٹھ کر چلے جائیں۔میں دل میں حیران تھا کہ نمبرداروں سے کون مراد ہیں۔اتنے میں آپ نے فرمایا بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک بات سن کر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ اس کا ماننا دوسروں کے لئے ہے ان کے لئے ضروری نہیں۔گویا وہ اپنے آپ کو دوسروں سے علیحدہ سمجھ لیتے ہیں اس لئے جب مجھے دوبارہ کہنے کی ضرورت ہو تو میں یہی کہا کرتا ہوں کہ نمبردار بھی اٹھ کر چلے جائیں۔میں دوستوں کو بتلانا چاہتا ہوں کہ جب کوئی اعلان ہوتا ہے تو اس سے تمام لوگ مراد ہوتے ہیں سوائے اس کے کہ بعض لوگوں کا استثناء کر دیا جائے اور کہہ دیا جائے کہ فلاں فلاں اشخاص مستثنیٰ ہیں۔اور اگر کسی کو مستثنیٰ نہ کیا جائے تو سب کو اس اعلان کی قدر کرنی چاہئے اور اپنے نظام کو قائم رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔نکاحوں کے متعلق بھی جماعت میں ایک نظام قائم ہو چکا ہے۔ایسے بہت سے واقعات ہوئے ہیں کہ جب نکاح ہو گیا تو لڑکی نے کہہ دیا کہ میری یہاں مرضی نہیں یا مجھ سے اس نکاح کی اجازت نہیں لی گئی۔اور ایسے نکاح عدالتوں میں جاکر ٹوٹ جایا کرتے ہیں۔بلکہ شرعاً بھی ایسے نکاح قائم نہیں رہتے کیونکہ لڑکی کی رضامندی نہایت ضروری چیز ہے۔اس لئے دفتر امور عامہ کا فرض قرار دیا گیا ہے کہ وہ اچھی طرح دیکھ لے اور اس بات کی تصدیق کرلے کہ لڑکی رضامند ہے اور اطمینان کر لیا جائے کہ دو معزز آدمیوں کے سامنے لڑکی نے اقرار کیا ہو۔یا ان کے دریافت کرنے پر خاموش رہی ہو کیونکہ رسول کریم می نے کنواری کے متعلق فرمایا ہے کہ اس کا سکوت ہی اس کی رضامندی ہے اور یہ مسئلہ اسے اچھی طرح بتا دیا گیا ہو کہ اس کا خاموش رہنا اس کی مرضی سمجھی جائے گی۔پس اگر امور عامہ اجازت دے تب نکاح ہو سکتا ہے۔یا لڑکی خود نکاح خواں کے سامنے آکر اقرار کرے۔مگر اس کے لئے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ساتھ گواہ ہونے چاہئیں تاکہ نکاح خواں پر بعد میں کوئی الزام نہ آئے۔