خطبات محمود (جلد 13) — Page 325
خطبات محمود ۳۲۵ سال ۱۹۳۲ء اس کے بعد میں اپنی جماعت کے دوستوں کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ میں متواتر تا چکا ہوں یہ دن خصوصیت سے تبلیغ کے ہیں اور ان ایام میں نہایت جوش کے ساتھ تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔میں نے پچھلے سال بلکہ اس سے بھی پچھلے سال سے تبلیغ پر زور دینا شروع کیا ہے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ اس کا نتیجہ نہایت خوش کن نکل رہا ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نهایت سرعت کے ساتھ ترقی کر رہی ہے۔مگر یہ ترقی نسبتی ہے حقیقی نہیں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ جماعت کے بہت سے احباب حقیقی طور پر تبلیغ کی طرف متوجہ نہیں اور جو جماعت کی ترقی کی سرعت ہے وہ بھی حقیقی طور پر اس لئے نہیں کہ ابھی اس مضبوطی سے ہم اپنی جماعت کی شاخیں تمام اکناف میں قائم نہیں کر سکے کہ ہم کارکنوں کی ضرورت سے مسنی ہو سکیں۔پس ضروری ہے کہ ہم پہلے سے بھی زیادہ جوش اور اخلاص کے ساتھ کام کریں کیونکہ جب تک ہر سال لاکھوں آدمی ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں گے اس وقت تک ہم پورے طور پر ترقی نہیں کر سکیں گے۔بالعموم پہلی صدی ہی ایسی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت دنیا میں وسیع طور پر پھیل جاتی ہے۔اور ہم یہ ترقی حاصل نہیں کر سکتے جب تک لاکھوں آدمی ہر سال ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں۔اور اگر ہم نے پہلی صدی میں ہی اپنی جماعت کو دنیا پر غالب نہ کیا تو پھر اور کون سا وقت ہو گا جب ہم تبلیغ کا کام کریں گے جبکہ پہلی صدی ہی اپنے ساتھ عظیم الشان برکات رکھتی ہے اور پہلی صدی میں ہی تعلیم اور تربیت کا بہترین سامان مہیا ہوتا ہے۔اگر ہم پہلی صدی میں تبلیغ کی طرف سے کو تاہی کریں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک طرف تو ہماری ترقی کو نا قابل تلافی صدمہ پہنچے گا اور دوسری طرف ہماری جماعت کی تربیت میں بھی نقص آجائے گا کیونکہ تبلیغی زمانہ میں اگر چہ جماعت خود تربیت کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کر سکتی مگر دشمنوں کی طرف سے متواتر مظالم ہوتے ہیں اور وہ الہی سلسلہ میں داخل ہونے والوں کو مختلف قسم کی اذیتیں اور دکھ پہنچاتے ہیں اس لئے انکے ظلم و ستم اور جبرو تشدد کی وجہ سے خود بخود لوگوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت ہوتی چلی جاتی ہے۔پس الہی سلسلہ کی پہلی صدی میں تبلیغ کا کام تو دوستوں کے سپرد ہوتا ہے اور تربیت کا کام دشمنوں کے سپرد- مگر بعد کی صدیوں میں چونکہ دشمن کم ہو جاتے ہیں اور دشمنوں کے شدائد کی کمی وجہ سے تربیت میں نقص آ جاتا ہے اس لئے اس وقت بہت سے جھگڑے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس اگر ہم اس وقت تبلیغ میں ستی ظاہر کرتے ہیں تو یہ سستی تربیت پر بھی برا اثر ڈالتی ہے اور جماعت اگر تعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے