خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 306 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 306

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء ڈالے تو وہ جلسہ سالانہ ہے پس میں کہتا ہوں کہ وہ بہنیں جو جمعہ کی نماز میں شامل ہونے کے لئے آئی ہیں میری یہ نصیحت سن کر دوسری بہنوں تک اسے پہنچا ئیں گی اور پھر وہ اور در سری تمام خواتین لجنہ اماء اللہ کو جس کے ماتحت ان کے جلسہ کا انتظام ہوتا ہے اپنی خدمات سپرد کر کے باہر سے آنے والی بہنوں کی آسائش کا انتظام کریں گی۔مگر چونکہ عورتیں ابھی ایسی ترقی یافتہ نہیں جیسے مرد اور وہ ابھی نظام کے لحاظ سے بہت پیچھے ہیں اس لئے میں جہاں عورتوں کو توجہ دلاتا ہوں وہاں مردوں کو بھی جنکی مائیں بہنیں ، عورتیں اور دوسری رشتہ دار یہاں جمعہ پڑھنے کے لئے آئی ہوئی ہیں توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے گھر جا کر اپنی ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں اور دوسری رشتہ دار عورتوں کو کام کرنے کے فوائد اور اس کا ثواب سمجھانے کی کوشش کریں۔ایک زمانہ انسان پر ایسا آتا ہے جب وہ قطعاً اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ اس کام کے عوض اسے کیا ثواب ملے گا۔بلکہ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کا فرض کیا ہے۔اور پھر ایک زمانہ اس پر ایسا بھی آتا ہے کہ وہ یہ بھی نہیں دیکھتا کہ یہ اس کا فرض ہے یا نہیں؟ بلکہ وہ کام اس کی طبیعت کا جزو ہو جاتا ہے اور وہ بغیر کسی دوسرے کی تحریک کے اسے خود بخود کرتا چلا جاتا ہے۔لیکن چونکہ یہ زمانہ ابھی عورتوں سے بہت دور ہے اس لئے فی الحال جس چیز کے ذریعہ انہیں کام کا شوق دلایا جا سکتا ہے وہ ثواب ہے اگر انہیں پتہ لگ جائے کہ اس کام کے نتیجہ میں ثواب ملے گا تو عورتیں نہایت شوق کے ساتھ کرتی ہیں اور دراصل وہی حربہ کارگر ہوتا ہے جو وقت پر کام آسکے۔اگر عورتوں کو سمجھانا شروع کر دیا جائے کہ تمہارا فرض ہے تو ان میں سے بہت سی عورتیں اس کو اپنا فرض سمجھنے سے قاصر رہیں گی اور وہ نہیں سمجھ سکیں گی کہ یہ ان کا فرض کیسے ہے۔یا اگر انہیں سمجھایا جائے کہ دوسروں کی خاطر تواضع کرنا انسان کا طبعی جذبہ ہے اور اس سے کام لینا چاہئے تو وہ حیران ہوں گی اور بہت سی پوچھیں گی کہ طبعی جذ بہ کیا ہوتا ہے۔مگر ایک چیز ہے جس کے ماتحت ہر عورت خواہ وہ غیر تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو بشر طیکہ مومنہ ہو کام کی طرف راغب ہو جاتی ہے اور وہ ثواب ہے۔جب کسی عورت کے یہ امر ذہن نشین کیا جائے کہ اس کام کے نتیجہ میں تمہیں اللہ تعالی کی طرف سے ثواب ملے گا خواہ وہ یہ جانتی ہی نہ ہو کہ ثواب کیا چیز ہوتا ہے پھر بھی وہ نہایت شوق سے کام کرنے پر آمادہ ہو جائے گی اور یہ ثواب کا لفظ ایمان کے ساتھ کچھ ایسا وابستہ ہو چکا ہے کہ خواہ کسی امر کی اہمیت سمجھنے کے لئے انسان کے پاس دلائل نہ ہوں اگر اسے پتہ لگ جائے کہ اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملے گا تو اسکے دل میں کچھ نہ کچھ گد گدی