خطبات محمود (جلد 13) — Page 303
خطبات محمود ۳۰۳ سال ۱۹۳۱ء اس طرح اپنے عمل سے اپنے قول کی تکذیب کرتے ہو۔دنیا میں کون ایسا بیوقوف سے بیوقوف اور بیہودہ سے بیہودہ انسان ہے جو شادی کے موقع پر اپنے مکانوں کو بند رکھے اور یہ پسند کرے کہ میں تو آرام میں رہوں مگر میرے مہمان گلی میں پڑے رہیں۔جب شادیوں کے موقع پر آنے والے مہمانوں کا احترام کیا جاتا ہے تو وہ جو خدا کے مہمان ہوں ان کے لئے جو شخص اپنے مکانات خالی نہیں کرتاوہ خدا کے حضور بہت بڑا مجرم ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کے پاس مکان ہو ، ہر وہ شخص جس کے پاس وقت ہو، ہر وہ شخص جس کے پاس صحت ہو وہ اپنے مکان اپنے وقت اور اپنی صحت کے لحاظ سے جس حد تک قربانی کر سکتا ہے کرے اور اپنی طاقتوں کو سلسلہ کے کارکنوں کے سپرد کر دے تاوہ ایک بے حقیقت حقیر اور نہایت ادنی سا ثبوت اس امر کا جیسا کرونے کہ وہ فی الواقع دین کو دنیا پر مقدم رکھتا ہے۔میں نے بتایا ہے میرے پاس کئی لوگوں کے متعلق ایسی شکایات آتی ہیں کہ وہ اپنے مکان خالی نہیں کرتے۔اس کے متعلق میں جہاں مکانات دینے والوں کو کہتا ہوں کہ وہ کم سے کم جگہ اپنے لئے مخصوص کر کے باقی مکان مہمانوں کے لئے خالی کر دیں وہاں میں مکانات لینے والوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں دوسروں کی تکالیف اور مجبوریوں کا خیال رکھنا چاہئے۔میں تو سمجھتا ہوں اگر ہمارے مکانات کی تنگی کسی وقت اس حد تک پہنچ جائے کہ مکانوں میں سے ہمارے نکلے بغیر مہمانوں کا گزارہ نہ ہو سکے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم مکانوں سے نکل جائیں اور سارے مکان اپنے مہمانوں کے لئے خالی کر دیں۔میں امید کرتا ہوں کہ باہر کے دوست اور قادیان کے احباب بھی ان نصائح پر عمل کرنے کی کوشش کریں گے جو میں نے ابھی کی ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے یہ خدا کی ذمہ داریاں ہیں اور ان کا ادا کر نا تمام ذمہ داریوں سے بڑھ کر ضروری ہے۔الفضل ۱۷ - دسمبر ۱۹۳۱ء) ل۔بخارى كتاب الرد على الجهمية وغيرهم التوحيد باب قول الله ونضع الموازين القسط بخاری کتاب الرقاق باب يدخل الجنة سبعون الفا بغير حساب۔تذكرة الاولياء باب ۷۸ درباره ابو بکر شبلی