خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 302

خطبات محمود ۳۰۲ سال ۱۹۳۱ء معزول کر دیا، خلعت اتار لیا اور دربار سے نکلوا دیا۔میں سوچتا ہوں مجھے بھی اپنے خدا کی طرف سے ایک گورنری کا خلعت ملا ہوا ہے معلوم نہیں میں نے کتنوں پر ظلم کیا ہو گا کتنوں کو نقصان پہنچایا ہو گا اور کس قدر اس خلعت کی بے حرمتی کی ہوگی۔میں نہیں سمجھ سکتا جب میں اپنے خدا کے دربار میں حاضر ہوا تو اس خلعت کی بے حرمتی کی وجہ سے میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔پس بادشاہ سلامت میرا استعفیٰ منظور کر لیجئے مجھے بھی یہ خلعت منظور نہیں۔بادشاہ نے انہیں بہتیرا سمجھایا مگر وہ نہ مانے اور استعفیٰ دے دیا تو قرب کا مقام جہاں بہت سی برکات کا موجب ہوتا ہے وہاں ایسے مقام میں رہنے سے انسانی ذمہ داریوں میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔آپ لوگوں کی ذمہ داریاں بھی دوسرے لوگوں سے بہت بڑھی ہوئی ہیں اور آپ لوگوں کو بھی خدا کی طرف سے ایک خلعت ملا ہے اور وہ خلعت مہمانوں کی آؤ بھگت اور ان کی خاطر تواضع ہے۔یہ خلعت خدا کے قائم مقام ہونے کا ہے ؟ ہونے کا ہے کیونکہ سلسلہ حقہ کے مہمانوں کا اصل مہمان نواز در اصل خدا تعالیٰ ہی ہوتا ہے اور جس قدر مہمان آئیں وہ خدا کے مہمان ہوتے ہیں پس چونکہ انکا اصل میزبان خدا تعالیٰ ہوتا ہے اس لئے جو جماعت ان کی مہمان نوازی کے لئے کھڑی ہوتی ہے وہ در حقیقت خدا تعالی کے قائم مقام ہوتی ہے۔ایسے عظیم الشان مقام پر جو جماعت کھڑی ہو اگر وہ اللہ تعالی کی اس خلعت کی بے حرمتی کرے یا اپنے اس شرف کو کسی کو تاہی کی وجہ سے بٹہ لگائے تو یہ کس قدر افسوس کا مقام ہو گا۔پس میں آپ لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اوقات اور اپنے مکان آنے والے مہمانوں کو مہمان نوازی کے لئے پیش کریں۔ہر شخص جس کے پاس کوئی مکان ہو وہ جس حد تک ممکن ہو سکے اپنا مکان مہمانوں کے لئے خالی کر دے اور اسے ان لوگوں کے سپرد کر دے جو منتظم مکانات ہیں۔صرف اپنے حصہ میں اتنا مکان رکھا جا سکتا ہے جس سے کم رکھنا نا ممکن ہو اور جو زائد حصہ ہوا سے خود بخود کارکنوں کے سامنے پیش کر دینا چاہئے۔مجھے کئی لوگوں کی شکایات پہنچتی ہیں کہ وہ باوجود وعدہ کرنے کے اپنے مکانات دینے سے انکار کر دیتے ہیں اور صرف تین دن کے لئے بھی اپنے آپ پر تنگی برداشت نہیں کرتے۔میں ایسے لوگوں سے کہوں گا کہ تم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہوا ہے اگر تم سال میں سے صرف تین دن کے لئے بھی اس عہد پر عمل نہیں کر سکتے تو تم سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہیں ہو سکتا۔تم دنیا کے سامنے تو یہ کہتے ہو کہ ہمارا مال اور ہماری جان اللہ تعالٰی کے راستہ میں قربان ہونے کے لئے حاضر ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تم صرف ایک ہفتہ کے لئے بھی اپنے مکانات خالی نہیں کرتے اور