خطبات محمود (جلد 13) — Page 22
خطبات محمود ۲۲ ۱۹۳۱ء ایک سید اور ایک مولوی اور ایک زمیندار تھا ایک باغ میں داخل ہوئے اور تمام میوے تو ڑتوڑ کر کھانے لگے۔اتنے میں باغ کا مالک بھی آگیا مگر وہ اکیلا تھا اس نے سوچا کہ یہ تینوں مشٹنڈے ہیں اگر سختی کروں تو ممکن ہے مجھے ہی ماریں اس لئے حکمت سے کام کرنا چاہئے۔اس خیال سے اس نے سید اور مولوی کو تو جھک کر ادب سے سلام کیا اور کہا آپ کا تو یہ اپنا باغ ہے آپ آل رسول اور رسول اللہ کے گدی نشین ہیں جو کچھ بھی ہمارا ہے وہ آپ کا ہی ہے آپ کا تو حق تھا کہ جو چاہتے کرتے لیکن اس جاٹ کا کیا حق تھا اس نے میرا باغ کیوں اجاڑ دیا انہوں نے کہا ہاں ٹھیک ہے اس کا کوئی حق نہ تھا اس نے کہا تو پھر آپ دونوں انصاف کو مد نظر رکھتے ہوئے میری مدد کریں چنانچہ انہوں نے اسے مدد دی اور اس نے اسے خوب ہی مارا اور پھر باندھ دیا اسکے بعد وہ سید صاحب سے کہنے لگا کہ آپ تو آل رسول ہیں آپ کا تو یہ اپنا مال ہے مگر یہ مولوی جو دو سروں کو کہا کرتا ہے کہ کسی کی چیز کو ہاتھ نہ لگاؤ اس کا کیا حق تھا کہ میرے مال کو استعمال کرتا اس سے سید خوش ہو گیا اور یہ سمجھ کر کہ میرا مرتبہ بہت بلند ہے کہنے لگا ہاں ٹھیک ہے اس نے کہا تو میری مدد کیجئے اور اس کی مدد سے اس نے مولوی کو بھی خوب مارا اور پھر باندھ کر ایک طرف ڈال دیا آخر اس نے سید کو بھی گردن سے پکڑ لیا اور کہا بڑا آل رسول بنا پھرتا ہے رسول اللہ تو لوگوں کے حق دلوایا کرتے تھے تو کیسا سید ہے جو لوگوں کے باغ اجاڑتا پھرتا ہے اور اسے خوب اچھی طرح مارا۔غرض پراگندگی سے بنا بنایا کام بھی خراب ہو جاتا ہے اور دشمن ایک ایک کر کے سب کو مار لیتا ہے اس لئے جماعت کا فرض ہے کہ مشترکہ کوشش سے اس کو کو روک دے۔ہر فرد کو چاہئے کہ اپنے گردو پیش کی تمام باتوں کا اچھی طرح سے خیال رکھے دہریت پر وہ اور سود وغیرہ کے متعلق جو بھی حالات ہوں ان پر پوری طرح نگاہ رکھے جس طرح ایک پہرہ دار ہر طرف دھیان رکھتا ہے اور صرف یہ خیال نہ کرے کہ ہم محفوظ ہیں الْحَمْدُ لِلہ ہم میں تو یہ بیماری نہیں۔طاعون سے بچنے کا طریق یہی ہے کہ اسے مٹادیا جائے جو قوم اس پر تسلی کر لیتی ہے کہ دو سر نکلے کے گھر میں ہی دباء ہے ہم میں نہیں وہ کبھی محفوظ نہیں رہ سکتی اگر ہمارے ہمسایہ کے گھر میں آگ لگی ہے تو دو گھنٹہ کے بعد ہمارے گھر میں بھی وہ ضرور آئیگی۔پس ہمارا پہلا فرض یہ ہے کہ ہمسایہ کے گھر میں ہی آگ پر قابو پا نیکی کوشش کریں نہ یہ کہ اپنے گھر میں آنے کے منتظر رہیں اسی طرح بیہ بھی ضروری ہے کہ دوسروں کے عقائد کو درست کریں تبھی ہماری نسلیں بھی محفوظ رہ سکتی ہیں اسی طرح پردہ کے متعلق ہندوستان میں یہ رو پیدا ہو رہی ہے کہ اسے بالکل چھوڑ دیا جائے