خطبات محمود (جلد 13) — Page 250
۲۵۰ سال ۱۹۳۱ ایک ہزار بلکہ اس سے بھی زیادہ روپیہ جمع ہو جانا قادیان میں معمولی بات ہے۔اس میں شبہ نہیں یہ سخت مالی مشکلات کے دن ہیں اور تجارت پیشہ لوگوں اور مزدور طبقہ کو بھی غیر معمولی تنگی محسوس ہو رہی ہے لیکن اگر اخلاص اور محبت الہی کو مد نظر رکھتے ہوئے کوشش کی جائے تو اس رقم کا جمع ہو جانا مشکل امر نہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ قادیان کی جماعت جو ہمیشہ دوسروں کے سامنے اپنا نمونہ رکھا کرتی ہے اس موقع پر بھی پیچھے نہیں رہے گی۔میں نے عزم کیا ہوا ہے کہ میں اس تحریک کے لئے کوئی خاص علیحدہ تقریر نہیں کروں گا کیونکہ اس کا یہ مطلب ہو گا کہ گویا لوگ خلیفہ وقت کے لئے چندہ دیتے ہیں خدا کے لئے چندہ نہیں دیتے حالانکہ مومنانہ نیت تو یہ ہونی چاہئے کہ چندہ دیتے وقت خواہ کوئی بھی معزز آدمی پاس نہ ہو خواہ کوئی بھی بڑا آدمی دیکھنے والا نہ ہو، خواہ کوئی بھی تعریف کرنے والا نہ ہو خواہ کوئی بھی تعظیم کرنے والا نہ ہو اور خواہ کوئی بھی داد دینے والا نہ ہو تب بھی محض اس لئے کہ اس چندہ کے دینے سے میرا خدا مجھ سے خوش ہو گا اور اس کی رضاء اور محبت مجھے حاصل ہوگی انسان چندہ دے اور وہ کام کرے جس کے کرنے کا اسے حکم دیا جائے۔پس قادیان کی احمدی خواتین کو اپنے نمونہ اور عمل سے اپنے دلی اخلاص اور ایمان کا ثبوت دینا چاہئے۔ہاں مجھے یاد نہ رہا ایک خاندان کی مثال بھی اس چندہ کی تحریک میں قابل تقلید ہے اور وہ ڈسکہ کی جماعت کا چندہ ہے دفتر محاسب کی رپورٹوں میں اس کا ذکر تھا۔وہاں چودھری نصر اللہ خان صاحب مرحوم کے خاندان کا مقام ہے ان کا چندہ بھی نہایت اعلیٰ درجہ کا ہے اور چودھری ظفر اللہ خان صاحب کے خاندان نے اس میں جوش اور اخلاص سے حصہ لیا اور اس جگہ کی جماعت نے بھی اپنے چندہ کی رقم معمولی حالت سے زیادہ ادا کی ہے۔اب میں مردوں کی تحریک کو لیتا ہوں۔اس وقت ہندوستان کی مالی حالت سخت پریشان کن ہے بلکہ ہندوستان کی ہی کیا ساری دنیا کی حالت مالی لحاظ سے ایسی کمزور ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے فرشتے دنیا سے روپیہ اٹھا کر لے گئے ہیں۔زمینداروں کی حالت تو ایسی ہے کہ سنگدل سے سنگدل انسان کو بھی ان کے حالات سنکر رحم آجاتا ہے مگر اقتصادی لحاظ سے دنیا کی حالت خواہ کتنی ہی خراب کیوں نہ ہو اللہ تعالٰی کے کام کبھی رکا نہیں کرتے بلکہ حق یہ ہے کہ خدا کے کام رکنے نہیں چاہئیں۔رسول کریم کے زمانہ میں مسلمانوں کی حالت جس قدر کمزور تھی اس کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ زمانہ کی خرابی کی حالت بھی اچھی ہے۔وہاں تو ہمیں یہ نمونہ نظر آتا ہے کہ رسول کریم دشمنوں سے لڑ