خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 200

خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء سلطنت کو تباہ کر دیا تھا مگر پھر بھی آگ کی چنگاری کی طرح عیسائی حکومت دبی رہی۔اسلامی حکومتوں کے زمانہ میں تو وہ دبے رہے مگر پھر بھڑک اٹھے۔پس یکلخت سلطنت اور حکومت تو کبھی نہیں ملتی۔یہی حال جماعت احمدیہ کا سمجھنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو اللہ تعالی حکومت دے گا مگر اپنے وقت پر۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام دیر آمد ازراه دور آمده یہ الہام ہے تو ایک شخص کے متعلق مگر اس میں جو حقیقت بیان کی گئی ہے وہ یہی ہے کہ جو چیز دیر سے ملتی ہے وہ دیر پا بھی ہوتی ہے۔زراہ دور آمدہ کا منشاء یہی ہے کہ خدا نے اس کو بہت دور سے بھیجا ہے اور وہ بہت دیر پا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ذریعہ رسول کریم می ولی کا جو یہ دوسرا ظہور ہوا ہے اس میں جب احمد یہ جماعت کو حکومت ملی تو اس کا بڑا لمبا دور ہو گا۔اتنا لمبا کہ ممکن ہے قیامت ہی آجائے اور ممکن ہے اسی دور سے ایک دو سرا دور شروع ہو جائے۔بہر حال وہ حکومت کا اتنا لمبادور ہو گا کہ اس سے بڑھ کر لمبا دور اور کسی حکومت کا نہ ہو گا۔میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے دشمنوں کو اس بات کی سمجھ عطا فرمائے کہ خدا کے شیروں کے مقابل کھڑا ہونا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ہم تو ان کے دلی خیر خواہ ہیں۔دنیا کی عزت تو گاندھی جی کو ملی ہے ہم چاہتے ہیں انہیں دین کی بھی عزت مل جائے تاخد ا کے حضور میں بھی وہ گاندھی جی ہو جائیں۔ابھی تو وہ دنیا کی نگاہ میں ہی گاندھی جی ہیں خدا کی نظر میں نہیں اور خدا کی نگاہ میں گاندھی جی وہ صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب کہ وہ کہیں غلام احمد کی ہے۔اس صورت میں خدا نہیں کہے گا کہ اس جے کہنے کے بدلہ میں تو بھی جی ہو جا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں نصیحت کی ہے کہ ہم سب کی بھلائی چاہیں اس لئے ہم تو یہی چاہتے ہیں کہ اللہ تعالی گاندھی جی کو اپنے حضور عزت دے تا ایسا ہو کہ وہ روحانی لیڈر بھی بن جائیں۔آخر خدا نے ہم سے لے کر تو انہیں کوئی رتبہ نہیں دیتا کہ ہمیں تشویش ہو بلکہ ہمارے ذریعہ سے جب انہیں کوئی رتبہ حاصل ہو گا تو اللہ تعالٰی ہمیں اور زیادہ انعام دے گا۔پس چونکہ ان کی روحانی ترقی ہمارے مدارج کو بڑھائے گی کم نہیں کرے گی اس لئے ہماری تو ان کی ہدایت کے لئے دعا ہے مگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ رسول کریم می پر اعتراض کئے جائیں۔