خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 14

۱۴ سال ۱۹۳۱ء پیش کی تھی کہ کس طرح یہ لوگ ہمیں بد نام کرنے کے لئے بد ترین قسم کا ھوٹ بولنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔اس پر پیغام صلح نے ایک مضمون لکھا ہے جس میں بیان کیا ہے کہ مرزا مظفر بیگ ایک نو آموز چھوٹے ایڈیٹر تھے ان سے کسی غلطی کا سرزد ہو جانا بہت ممکن بلکہ اقتضاء عمر تھا۔خوامخواہ مختصر سے مرزا کے خلاف یوں اظہار غیظ و غضب کیا گیا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو ! یہ کتنے عجیب لوگ ہیں کہ ایک نا تجربہ کار اور نو آموز جھوٹ بولنے والے اس پر اس قدر ناراض ہو گئے۔گویا وہ چونکہ نا تجربہ کار تھا اس لئے اس نے ایسا جھوٹ بول دیا جس پر گرفت ہو سکی۔اور ایڈیٹر پیغام کا مطلب یہ ہے کہ مزا تو جب ہے کہ ایڈیٹر پیغام جیسے تجربہ کار کا جھوٹ پکڑیں۔پیغام کے چھوٹے ایڈیٹر کو تو اتنی سمجھ نہ تھی کہ جھوٹ میں دس فی صدی بچ بھی ملا لینا چاہئے اس لئے اس سو فی صد جھوٹ بول دیا پس مظفر بیگ پر ناراض نہیں ہو نا چاہت تھا۔کیونکہ وہ نا تجربہ کار اور نو آموز تھا۔وہ ابھی امیر صاحب کے زیر تربیت ہے جب وہ تجربہ حاصل کرلے گا اس وقت اگر اس کا جھوٹ پکڑ لو تو پھر ناراض ہونے کا حق ہو گا۔ایسی گندی ذہنیت رکھنے والے لوگوں کے متعلق کرید کرید کر یہ پوچھنا کہ ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں سوائے اس کے کچھ معنی نہیں رکھتا کہ اپنے دل کا گند ظاہر کیا جائے۔شریعت کی حدود کو تو میں توڑ نہیں سکتا اور چونکہ میراند ہب بندوں کی خاطر نہیں اس لئے میں یہ تو کہوں گا کہ جائز ہے جائز ہے جائز ہے، مگر اسی طرح جس طرح روزی پر سے گو بھی یا شلجم کے پھلکے اٹھا کر یا گلی میں پڑے ہوئے ٹکڑے کھانا جو شخص ان چیزوں کے جواز پر عمل کرتا ہے اسے اس جواز پر عمل کرنے کا بھی حق ہے۔ایک شخص نے کسی سے کہا حضرت خلیفہ المسیح الاول سے کہو جس طرح فلاں شخص کو غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنے کی اجازت دی ہے اسی طرح مجھے بھی دے دیں۔آپ نے فرمایا پہلے اس جیسے ہو جاؤ پھر تمہیں بھی اجازت دے دوں گا۔وہ تو نماز پڑھتا ہی نہیں تھا میں نے اس خیال سے کہ نماز میں کھڑے ہونے کی اسے عادت ہی ہو جائے اجازت دے دی تھی۔اس سوال کو دریافت کرنے والے ایک کشمیری دوست ہیں۔انہوں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ اپنے بعض اور دوستوں کی طرف سے یہ سوال دریافت کیا ہے۔میں اس کا یہ جواب دیتا ہوں کہ ان کے ملک میں سیب بہت ہوتا ہے۔کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ انہوں نے بازار میں جا کر دکاندار سے کہا ہو کہ جو ردی سے ردی سیب تمہارے پاس ہوں وہ مجھے دے دو یا ان کے ملک میں لوگ