خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 13

خطبات محمود ۱۳ سال ۱۹۳۱ء جائے اور یا غیر احمدیوں کے پیچھے اس کا مولوی محمد علی صاحب نے اسے جو جواب دیا اس میں یہ تو مجھے اس وقت یاد نہیں کہ غیر احمدیوں کے متعلق کیا لکھا مگر یہ تاکید کردی کہ مبائع امام کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔اس کا سوال غالبا نماز جمعہ کے متعلق ہی تھا اور مولوی صاحب نے لکھا کہ جمعہ نہ پڑھو۔گھر میں ظہر کی نماز پڑھ لیا کرو۔مگر مبالکین کے پیچھے جمعہ نہ پڑھو۔اتنی تاریک دلی اور ظلمت کے بعد اور انسانیت اور اسلام سے اس درجہ نفرت کے بعد کہ ہمارا اسلام بھی انہیں کفر نظر آتا ہے ان کا عقیدہ ہے کہ ہر کلمہ گو مسلمان ہے مگر ہم کلمہ بھی پڑھیں تو ہمارے پیچھے ان کی نماز نہیں ہو سکتی۔وہ روزانہ اس امر پر بحثیں کرتے ہیں کہ کلمہ گو کافر نہیں ہو سکتا۔مگر کوئی ان سے اتنا نہیں پوچھتا کہ جب مبائع کلمہ گو ہیں تو وہی فتویٰ جو دو سروں کے متعلق دیتے ہو مبالکین کے متعلق کیوں بھول جاتے ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے فتوے محض بغض کی وجہ سے ہیں نہ کہ خدا اور اسلام کے لئے۔ہم سے چونکہ انہیں انتہائی بغض ہے اس لئے ہمارا اسلام بھی انہیں کفر نظر آتا ہے پس باوجود اس انتہائی بغض کے جو یقینی طور پر ہندوؤں میں بھی نہیں ہو گا اگر ایک بدترین دشمن ہندوؤں میں سے لیا جائے، ایک بدترین دشمن عیسائیوں میں سے لیا جائے، ایک بد ترین دشمن دہریوں میں سے لیا جائے اور ایک بد ترین دشمن پیغامیوں سے لیا جائے تو یقینا پیغامی دشمنی اور بغض میں دہریہ عیسائی اور ہندو سے بھی بڑھا ہوا ہو گا۔ان کے عالی ممبر بغض کے مجسمے ہیں اگر کسی نے زمین پر چلتی پھرتی دوزخ کی آگ دیکھنی ہو تو ان لوگوں کو دیکھ لے۔میں نہیں سمجھتا ان سے زیادہ بغض اور کینہ والے لوگ کبھی دنیا میں ہوئے ہوں۔ممکن ہے کبھی ہوئے ہوں اور تاریخ والوں نے دوزخ کی اس آگ سے آئندہ نسلوں کو محفوظ اور بے خبر رکھنے کے لئے ان کا ذکر کرنا مناسب نہ سمجھا ہو مگر جہاں تک تاریخ سے پتہ چلتا ہے ان لوگوں کا بغض سب سے بڑھا ہوا ہے۔جلسہ کے موقع پر میں نے ان کے بغض کی ایک مثال ہیں۔ان لوگوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اختلاف کو دشمنی کا موجب نہیں بنایا جیسے شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم اور ان کی اولاد اسی طرح ملک غلام محمد صاحب رئیس لاہور سید عبد الجبار شاہ صاحب سابق بادشاہ سوات دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ہدایت کا راستہ کھول دے اور اس گڑھے سے ان کو نکال لے۔مرزا محمود احمد