خطبات محمود (جلد 13) — Page 155
خطبات محمود ۱۵۵ سال ۱۹۳۱ء ہے کہ وہ سلسلہ کے کاموں پر اعتراض کرے گا مگر اس زمانہ میں جو شخص اعتراض کرے وہ مخلص سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے یہ قوم کی اصلاح کے لئے کہہ رہا ہے۔حالانکہ وہ اعتراض انہی لوگوں کے پاس جا کر کرتا ہے جن کے سپرد اصلاح کا کام نہیں ہوتا۔اگر واقعہ میں اس کے دل میں درد ہوتا اور اصلاح کا حقیقی خیال موجود ہو تا تو اسے چاہئے تھا کہ ان لوگوں کے پاس جاتا جو ذمہ دار ہیں اور جن کے سپرد نظام سلسلہ کا کام ہے مگر وہ ان کے پاس نہیں جاتا بلکہ اوروں کے پاس بیان کرتا ہے۔جس سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی غرض محض فتنہ اور فساد ہے۔اصلاح نہیں۔کیا کوئی شخص ایسا ہو سکتا ہے جسے اپنے بچے سے شکایت ہو تو وہ ہر شخص کے پاس جاکر اس کی شکایت کرتا پھرے ایسا وہ کبھی نہیں کرے گا۔مگر یہ منافق لوگ مجھ سے ایسی باتوں کا ذکر نہیں کرتے بلکہ اوروں کے پاس کرتے رہتے ہیں اور جب کہا جائے کہ کیوں او پر بات نہیں پہنچاتے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمیں ان سے ڈر آتا ہے اور ان کا اتنا ادب ہے کہ ہم ان کے سامنے بات بھی نہیں کر سکتے۔گویا خدا کا ادب نہیں رسول کا ادب نہیں اگر ادب ہے تو صرف میرا ہے کیونکہ جانتے ہیں خدا سامنے نہیں اور رسول فوت ہو چکا ہے۔حی و قیوم خدا پر ایمان نہیں۔رسول کا دل میں پاس نہیں۔صرف میرا وجو د درمیان میں رہ جاتا ہے۔پس وہ مجھ سے ڈرتے ہیں مگر کسی ادب کی وجہ نہیں بلکہ سزا کے خوف سے۔وگرنہ ان کے دلوں میں نہ خدا کا خوف نہ رسول کا ادب ہے اور نہ ہی خلافت کا احترام ہے۔ایک کے متعلق وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا دوسرے کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ دنیا میں ہے ہی نہیں۔اس نے کیا کر لیتا ہے۔صرف خلافت کا وجود رہ جاتا ہے جس کی سزا سے انہیں خوف آتا ہے۔پس میں اپنی جماعت کے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نہ صرف ہندوؤں ، عیسائیوں اور سکھوں میں سے دشمن لوگوں کی خبر رکھا کریں بلکہ اندرونی دشمنوں کا بھی خیال رکھا کریں۔وہ جب تک ان دشمنوں سے آگاہ نہیں رہیں گے۔کبھی ترقی نہیں کر سکتے۔رسول کریم میں کی یہ حالت تھی کہ آپ برابر دشمنوں کی خبریں منگایا کرتے تھے اور اس طرح ہو شیار اور چوکس رہتے تھے کہ اندرونی دشمن یعنی منافق بھی کہنے لگے هُوَ ادو۔هو ادب اس کا کام یہی ہے کہ ہر وقت لوگوں کی باتیں سنتا رہتا ہے جو بھی کہیں بات ہو اس کے پاس پہنچ جاتی ہے۔ان لوگوں کے مونہہ چاہے یوں تعریف نہ کریں مگر ان کا یہ کہنا بھی تو صحابہ کی ہوشیاری اور رسول کریم ما السلام کی بیداری کی دلیل ہے۔ابھی تھوڑا عرصہ ہوا میں نے ایک خطبہ پڑھا تھا اس پر کسی نے مجھے ایک خط لکھا وہ دوست مخلص تھے اور ہیں۔اس ضمن میں میں یہ