خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 154

خطبات محمود ۱۵۴ سال ۱۹۳۱ء کے زمانہ میں کچھ لوگ اندرونی طور پر فتنے پیدا کرتے ابلیس کی طرح لوگوں میں تفرقہ ڈالتے اور ان کے ایمانوں کو خراب کرتے اور بیرونی دشمنوں کو مسلمانوں کے خلاف ابھارتے اسی طرح اس زمانہ میں بھی ایسے منافق لوگوں کا پیدا ہونا ضروری تھا۔مگر کتنے ہیں جو ان اندرونی دشمنوں سے آگاہ ہیں۔ہر قوم ہمارے خلاف تیاریاں کر رہی ہے اور اندرونی دشمن الگ ہیں جو فتنہ پیدا کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں مگر بہت لوگ ان دشمنوں سے آگاہ نہیں رہتے۔قادیان میں ہی مستریوں کا فتنہ کبھی اتنا ترقی نہ کرتا اگر وقت پر لوگ ان کی دشمنی سے آگاہ ہو جاتے چونکہ لوگوں کو ناواقفیت ہوتی ہے اس لئے بعض ایسے منافقوں کی تائید کر دیتے ہیں۔یہاں قادیان میں ہی ایک منافق آدمی نهایت شدت سے مخالفت کے سامان کرتا رہتا ہے مگر ہمارے وقف کنندگان میں سے ایک نے اس کے ذکر پر میرے متعلق کہا کہ ان کو کیا معلوم ہم خوب جانتے ہیں یہ منافق نہیں بلکہ بڑا مخلص ہے حالانکہ اگر وہ ذرا بھی اپنی آنکھوں کو کھول کر دیکھتا تو اس کے لئے اس کا نفاق سمجھنا کچھ بھی مشکل نہ تھا۔تم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو صبح اور شام پولیس کے پاس جاتے ہیں اور ان سے ملتے ہیں۔رات اور دن ان کا کام ہی یہ ہے کہ پولیس سے ملتے ہیں اور ان کے ملنے کی غرض محض یہ ہوتی ہے کہ جماعت کے متعلق جھوٹی خبریں پہنچا ئیں۔تم ایسے لوگوں کو دیکھتے ہو مگر تم میں ان کی حالت کا کچھ بھی احساس نہیں ہوتا۔آخر ہمارے دوست سوچتے نہیں احمدی نمبر دس کے بد معاش تو نہیں ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ وہ صبح و شام پولیس سے ملتے ہیں حالانکہ ان کا پولیس سے کوئی بھی تعلق نہیں اور نہ ہی سلسلہ کی طرف سے انہیں کسی عہدہ پر مقرر کیا گیا ہے کہ انہیں ملنے کی ضرورت ہو۔ایسے لوگ محض جماعت کی مخالفت کے لئے جاسوسی کے فرائض انجام دینے کے لئے وہاں جاتے ہیں۔اگر اصلاح غرض ہے تو پہلے اپنی اصلاح کیوں نہیں کرتے۔اور پھر اس طریق سے اصلاح ہو کس طرح سکتی ہے۔ان کا کام سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ رات اور دن یہی سوچتے رہیں کہ ہم کیا کیا جھوٹ بنائیں اور کس طرح پولیس کو جاکر خبر دیں۔تم میں ایسے لوگ موجود ہیں مگر تمہیں کبھی خیال نہیں آتا کہ آخر ان لوگوں کی جائداد میں کہاں سے بن رہی ہیں آمد کا بظاہر کوئی ذریعہ نہیں۔جن دنوں کام تھا اور آمد تھی ان دنوں تو جائدادیں بنی نہیں مگر جب کام نہیں رہا تو جائدادیں بنی شروع ہو گئیں۔کوئی نہیں سوچتا کہ ان لوگوں کے پاس اتنا مال کہاں سے آگیا کہ معا آمد بند ہوئی اور ان کی جائدادیں بنی شروع ہو گئیں اور گزارہ بھی خوب چلتا رہا۔اگر تم آنکھیں کھول کر دیکھو تو منافقوں کا پتہ لگانا کچھ بھی مشکل نہیں۔اول تو منافق کی بڑی علامت یہ