خطبات محمود (جلد 13) — Page 108
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء لئے ہے دشمنوں کے لئے نہیں۔حضرت مسیح ناصری کی تعلیم صرفہ یہ ہے کہ دشمن کا مقابلہ نہ کیا جائے اور اگر کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی پیش کر دیا جائے۔مگر دشمنوں کے سامنے اس قسم کی تعلیم ہر وقت کام نہیں آتی ہاں دوستوں پر یہ تعلیم نہایت گہرا اثر کرتی ہے۔البتہ دل میں کینہ بٹھانے والا چونکہ اس طریق سے متاثر نہیں ہو سکتا اس لئے اس کے لئے سزا کا طریق بھی جاری کیا گیا ہے۔اگر حضرت مسیح ناصری سزا کا طریق بھی جاری کرتے تو کون انسان ان کی اس تعلیم کی خوبی سے انکار کر سکتا مگر انہوں نے صرف ایک پہلو پر زور دیا۔پس ہم یہ نہیں کہتے کہ حضرت مسیح کی تعلیم کسی جگہ بھی کار آمد نہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ جزو ہے کل کا۔اسلام نے کل پیش کیا ہے مگر حضرت مسیح نے اس کا ایک جزو پیش کیا۔پس ہمارا اعتراض تعلیم کی خوبی پر نہیں ہے بلکہ یہ ہے کہ یہ تعلیم ہر جگہ کام آنے والی نہیں اپنی جگہ بے شک یہ ایک مفید تعلیم ہے۔رسول کریم میر کی فتح اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی فتح اور ان تمام انبیاء کی فتح جن کی تاریخیں محفوظ ہیں اور جن پر ایمان لانا ہمارے فرائض میں داخل ہے حلم بردباری، محبت اور ، پیار سے ہی ہوئی۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کی مجلس میں ایک شخص آیا اور آپ کو آتے ہی گالیاں دینے لگ گیا اور جب خوب گالیاں دے چکا اور بیٹھ گیا تو آپ نے فرمایا تسلی ہو گئی یا کچھ اور ہی جاتی ہے۔اسی طرح ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام لاہور تشریف لے گئے تھے وہاں راستہ میں ایک شخص نے آپ کو دھکا دیدیا۔لوگ اس کو مارنے لگے مگر آپ نے فرمایا نہیں اسے کچھ نہ کہو۔اس نے تو اپنے اخلاص سے ہی دھکا دیا ہے۔وہ دراصل مدعی نبوت تھا۔آپ نے فرمایا اس نے سمجھا ہے کہ ہم ظالم ہیں اور اس کا حق مار رہے ہیں اس لئے اس نے دھکا دیدیا۔پیغمبر اسنگھ جو یہاں آیا کرتے تھے ان کا وہ بھائی تھا۔وہ سنایا کرتے تھے کہ میرا بھائی بعد میں ساری عمر شرمندہ رہا اور کہتا تھا مجھ سے تخت غلطی ہوئی کہ میں نے حضرت مرزا صاحب کو دھکا دیا۔تو اخلاقی نمونہ اور محبت کا اثر تو پاگلوں پر بھی ہو جاتا ہے صحیح عقل والوں پر کیوں نہ ہو گا۔ہمارے بہت سے جھگڑے آسانی سے آپس میں طے ہو سکتے ہیں سرکاری عدالتوں میں جانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی بلکہ سلسلہ کی عدالتوں میں بھی نہیں جانا نہیں پڑ تابشر طیکہ ہم انہیں خود سلجھا لیں۔پھر ہمارے پاس اتنی دولت ہی کہاں ہے جس کے متعلق اپنے جھگڑے عدالتوں میں لے جایا کریں۔اور وہ دولت جو ایمان اور سلسلہ کے نظام سے علیحدہ کر دینے والی ہو وہ تو جہنم کی آگ ہے دولت نہیں۔مگر میں کہتا ہوں ہمارے پاس دولت ہے ہی کہاں۔ہماری ایک کنگال جماعت