خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 642 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 642

خطبات محمود ۶۴۲ سال ۱۹۳۲ء دوسری نیکی تعلیم ہے۔تبلیغ اسے کہتے ہیں کہ غیر مذاہب کے لوگوں کو مذہب حقہ کی طرف ہدایت دینا۔اور تعلیم کے معنے ہیں اس میں داخل ہونے والوں کو مذہب کا صحیح مفہوم بتانا قرآن کریم اور اس کا ترجمہ پڑھانا ، احادیث پڑھانا اور کسی دنیوی لالچ کے لئے نہیں بلکہ محض اللہ تعالٰی کی رضا جوئی کے لئے دین سے دوسروں کو آگاہ کرنا یہ بھی دائمی نیکی ہے۔جن اشخاص کو تعلیم دی جائے وہ یا ان میں بعض اگر اور لوگوں کو تعلیم دیں اور پھر ان سے سیکھنے والے آگے اس سلسلہ کو چلا ئیں تو ان سب کا ثواب اسے ملتا رہے گا۔اور بالکل ممکن ہے کہ یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔اور قیامت تک ہی اس کے باغ میں نئے درخت ہوئے جاتے رہیں۔تیسری چیز تربیت ہے۔یہ بھی مستقل نیکی ہے۔جو شخص اپنی اولاد کی تربیت صحیح رنگ میں کرتا ہے اور اس کی اولاد آگے اپنی اولاد کی تو اس طرح جہاں تک یہ سلسلہ جاری رہے ا سے ثواب ملتا رہے گا۔اور ممکن ہے اس خاندان میں قیامت تک کوئی نہ کوئی نیک پیدا ہو تا رہے اور اس طرح اس کے باغ میں نئے درخت لگتے ہیں۔غرض رسول کریم ملی کا اس ارشاد سے کہ بہتر نیکی وہی ہے جو ہمیشہ جاری رہے یہی مفہوم تھا۔بے شک نماز میں سستی کرنے والا مستقل نجات نہیں پاسکتا۔یعنی براه راست بغیر دوزخ میں داخل ہونے کے جنت میں نہیں جاسکتا۔یوں تو ایک وقت کے بعد سب جنت میں چلے جائیں گے لیکن نماز کے تارک کا یا اس میں سستی کرنے والے کا سید ھا قدم جنت میں نہیں جا سکتا۔یہی حال زکوۃ اور حج وغیرہ دوسری عبادات کا ہے کہ ان کے بغیر انسان سیدھا جنت میں نہیں جاسکتا۔گویا وہ نہایت ضروری ہیں اور انہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔یہ اصل چیزیں ہیں اور وہ نیکیاں زینت ہیں۔ایک مکان چھت دیواروں کے ساتھ تو مکمل ہو جاتا ہے لیکن بعض زینت کی چیزیں ہوتی ہیں جو اسے خوبصورت بنادیتی ہیں۔ایک ہی حیثیت رکھنے والی یکساں جگہ میں بظاہر ایک ہی جیسے دو مکانوں میں سے ایک پانچ ہزار کی مالیت کا ہو گا اور دو سرا ایک لاکھ کی مالیت کا۔گویا تزئین اور آراستگی سے قیمت بڑھ جاتی ہے۔تو نماز ، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ ایسی نیکیاں ہیں جن کے بغیر نجات ہی نہیں مگر جو دائمی نیکیاں میں نے بیان کی ہیں وہ اعمال کی عمارت کو خوبصورت بنا دیتی ہیں اور یہی وہ امور ہیں جن کے لئے رسول کریم میام کو مبعوث کیا گیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايته وَ هِم وَيُعْلَمُهُم A GRAND الحكمة اس میں انہی تین امور کو بیان کیا ہے یعنی پہلے تبلیغ ہے۔پھر تعلیم اور پھر تربیت اور یہی وہ چیزیں ہیں جن کی وجہ سے رسول کریم میں ساری