خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 607 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 607

خطبات محمود 70 سال ۱۹۳۲ء جرأت اور موقع شناسی سے کام لینا چاہئے اور فرموده ۱۴- اکتوبر ۱۹۳۲ء بمقام ڈلہوزی) تشهد تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- چونکہ کام کی زیادتی کی وجہ سے دیر ہو گئی ہے اس لئے میں اختصار کے ساتھ صرف چند باتیں بیان کروں گا۔پچھلے دنوں ہماری جماعت نے یوم التبلیغ منایا ہے۔میں اس دن کی کارروائی اور اس کے اثرات کے متعلق تو بعد میں کسی وقت اپنے خیالات کا اظہار کروں گا لیکن اس وقت اس مناسبت سے ایک نہایت مختصر بات جماعت کی راہنمائی کے لئے بیان کر دیتا ہوں۔یہ زمانہ اپنے ساتھ کئی طرح کی ترقیات کئی قسم کی خرابیاں اور نقائص رکھتا ہے۔جہاں اس زمانہ میں علمی ترقی ہوئی ہے وہاں اس زمانہ کے لوگ اخلاق کے پہلو بلکہ اس کی بعض حدود کو توڑ کر ایک جہت کی طرف راغب ہو رہے ہیں اور اپنے تمدن کو بلند کرنے کی طرف بڑی سرعت سے گامزن ہیں۔اور جس تمدن کو وہ ترقی دینا چاہتے ہیں اس کا ایک پہلو یہ ہے کہ انسان کو بہت زیادہ مہذب ہونا چاہئے۔اس میں شبہ نہیں کہ یہ ایک نہایت ہی اعلیٰ چیز ہے اور اسلام نے اس پر بہت زور دیا ہے لیکن آج کل کا تمدن تہذیب کے ایسے ایسے معنے کرتا ہے جس کے ماتحت تہذیب تہذیب ہی نہیں رہتی۔مثلاً آج کل کی تہذیب کے نکات میں سے ایک تعلیم یہ بھی ہے کہ انسان کسی دوسرے کو ایسی بات نہ کیے جو اس کی تکلیف اور دل شکنی کا موجب ہو اور اسے وہ ناگوار گذرے خواہ وہ بات فی نفیسہ کتنی بچی ، ضروری اور اہم کیوں نہ ہو۔مثلاً سچائی اور صداقت ہی کو لو اس کا بیان کرنا بھی بعض لوگوں کو سخت ناگوار ہوتا ہے اور وہ پسند نہیں کرتے کہ ان کے عقائد اور خیالات کے خلاف کوئی بات کی جائے بلکہ میں نے دیکھا ہے حکومت کے بعض آفیسرز