خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 584 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 584

خطبات محمود ۵۸۴ سال ۱۹۳۲ء بڑے بڑے نتائج پیدا کر دیتی ہیں۔جہاں ہم مسلمانوں کے حقوق کے لئے دوسروں کے مقابلہ میں سینہ سپر ہیں ، وہاں ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ دنیا کی تمام قوموں میں رابطہ و اتحاد قائم کریں۔سیاسی حالات میں ہم ہندوؤں کو بھی بھائی سمجھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر جگہ احمدیوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ وہ تعصب کی پنی آنکھوں پر سے ہٹا کر ہر قوم کے حقوق کی حفاظت اپنا فرض سمجھتے ہیں۔احمدی ہر جگہ مساوات کا سلوک کرتے نظر آئیں گے۔احمدی افسر جہاں جاتے ہیں اسی لئے کامیاب رہتے ہیں کہ وہ ہر ایک سے مساوی سلوک کرتے ہیں۔اور ہر ایک سمجھتا ہے کہ فلاں افسر انصاف سے کام کرتا ہے۔باہر جب کسی کا خواہ وہ ہندو اور عیسائی کیوں نہ ہو کسی احمدی سے جھگڑا ہوتا ہے تو وہ عیسائی یا ہندو کوشش کرتا ہے کہ عدالت میں جانے کی بجائے مقدمہ ہمارے پاس لے آئے۔چنانچہ آئے دن ایسے مقدمات قادیان میں آتے رہتے ہیں۔یہ ثبوت ہے اس بات کا کہ ہم پر ہر قوم کے لوگ اعتماد رکھتے ہیں۔اس اعتماد کو بڑھانا ہمارا فرض ہے۔ہندوؤں سے آج کل بعض معاملات میں ہمارا اختلاف رائے ہے۔اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ اگر ہم ہندو افسروں کو تبلیغ کریں گے تو وہ سنیں گے نہیں غلط ہے۔کیونکہ جب ہم انہیں یقین دلائیں گے کہ مسلمان آج کل مظلوم ہیں اور ہم جو ان کے حقوق کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو صرف مظلوم کی حمایت میں درنہ کسی سے میں دشمنی نہیں تو کون عظمند اور شریف انسان ہماری بات سننے سے انکار کرے گا۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شہزادہ ء امن بنا کر بھیجا گیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر مذہب وملت کے آدمی سے ہماری راہ و رسم ہو۔ان سے ملاقاتیں کی جائیں اور پھر انہیں وہ آسمانی پیغام پہنچایا جائے جس کو ہم سن چکے ہیں۔اس طرح ایک طرف ہم جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو شہزادہ امن بنانے کی جو غرض ہے اس کو پورا کرنے والے ہوں گے وہاں دوسری طرف فرض تبلیغ بھی ادا ہو تا رہے گا۔پھر صرف غیر مذاہب کے بڑے بڑے آدمیوں سے ہی ملاقاتیں نہ کی جائیں بلکہ مسلمان افسروں سے بھی ملیں اس طرح ان لوگوں میں جنہیں قومی احساس نہیں اور جو اپنے فوائد کو قومی ضروریات پر مقدم رکھتے ہیں اور جن کے قلب میں جرات اور دلیری نہیں ہم قومی احساس پیدا کر سکیں گے اور انہیں بہادر اور دلیر بنا سکیں گے۔آج بہتیرے مسلمانوں میں ایسے ہیں جو بسا اوقات انتہائی بزدلی کا اظہار کرتے ہیں۔ایک موقع پر ایک انگریز افسر سے کہا گیا کہ تمہاری عام روش مسلمانوں کے خلاف کیوں ہے۔تو اس نے کہا ہندو مسلمانوں کا جب کوئی ہنگامہ ہوتا ہے تو ہندو یہ شور ڈال دیتے ہیں کہ ہماری قوم تباہ کر دی گئی، ہم لٹ گئے ہم