خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 579 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 579

خطبات محمود ۵۷۹ سال ۱۹۳۲ء ہے، چندے دیتی ہے ، قربانیاں بھی کرتی ہے لیکن بہت سے دروازے ایسے ہیں جن کو ہم نے چھوڑا ہوا ہے اور جن میں سے گزرنے کے بغیر کامیابی بھی نہیں ہو سکتی۔چند دن سے میں غور کر رہا ہوں کہ روحانی اور ملی امور کی تکمیل کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہے ابھی ہم نے ان کا بالاستیعاب مطالعہ نہیں کیا۔اور ان تمام دروازوں سے گزر کر ہم ان تمام راستوں پر نہیں چلے جن میں سے گزر کر ہمارا چلنا کامیابی کے لئے ضروری اور لازمی ہے۔میں دیکھتا ہوں ہماری جماعت میں عام طور پر دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ایک تو عام طبقہ میں سے معمولی ملازمین کی ایک جماعت ہے جن کی تنخواہیں میں پچیس سے شروع ہو کر ایک نئوتک پہنچتی ہیں ، بعض زیادہ تنخواہوں والے بھی ہیں لیکن بہت کم۔دوسرے زمیندار لیکن وہ بھی اتنی بڑی حیثیت کے نہیں۔لیکن کوئی قوم صرف ان دو جماعتوں کے لوگوں کے ذریعہ ترقی کے تمام مدارج نہیں طے کر سکتی۔پھر یہ بھی دونوں گروہ اپنی مکمل حیثیت میں ہمارے پاس نہیں ہیں۔نہ تو تمام قسم کے ملازمین ہماری جماعت میں ہیں، نہ تمام درجوں کے زمیندار احمدی ہیں بلکہ ابھی ان کے بہت سے طبقے ہم سے علیحدہ ہیں۔لیکن پھر بھی یہی دو طبقے ہیں جن میں ہماری جماعت ترقی کر رہی ہے۔اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ شروع شروع میں انہیں دونوں طبقوں کے لوگ جماعت میں داخل ہوئے۔اور جہاں یہ بات ہمارے لئے خوشی کا موجب ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کو ترقی دے رہا ہے وہاں ہمیں یہ بھی مد نظر رکھنا چاہئے کہ اس خوشی کے حصول کی کئی کوششوں سے ابھی ہم خالی ہیں مثلا کئی رنگ کی تبلیغیں ایسی ہیں جو صرف تاجروں کے ذریعہ اور صرف تجارتی کاروباری ہی ہو سکتی ہیں۔تاجروں کے ذریعہ ہم بغیر کسی خرچ کے غیر ممالک میں تبلیغ کر سکتے ہیں افریقہ میں اسلام تاجروں کے ذریعہ ہی شروع شروع میں پہنچا تھا۔لیکن ہماری جماعت میں تاجروں کی بہت کمی ہے اور جو ہیں ان میں ایک بھی ایسا نہیں جس کو بہت بڑا تاجر کہا جا سکتا ہو۔ادھر یہ بات عقل میں نہیں آسکتی کہ تمام بڑے بڑے تاجر متعصب ہوں یا اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت سے محروم رکھنے کا فیصلہ کر دیا ہو۔آنحضرت تعلیم کے زمانہ میں بہت سے تاجروں میں اسلام پھیلا تھا اور بہت سے بڑے بڑے تاجر مسلمان تھے۔پس اگر ہماری جماعت میں تجار کی کمی ہے تو اس میں کسی غیر کا قصور نہیں بلکہ خود ہماری غفلت اور سستی ہی اس کا موجب ہے۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ آزاد پیشہ ور بھی ہماری جماعت میں بہت کم ہیں۔کامیاب پریکٹس کرنے والے ڈاکٹروں، وکیلوں اور صنعت و حرفت کا کام کرنے والوں ، ٹھیکیداروں وغیرہ کی