خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 576

خطبات محمود ۵۷۶ سال ۱۹۳۲ء مطلب ہو گا کہ وہ چاہتا ہے میں بیمار ہو جاؤں ، میرے جذبات پر مردہ ہو جائیں اور میرے دل میں کام کی خواہش نہ رہے کیونکہ کام سے جی چرانے کے معنی ہی طبیعت کی خرابی اور بیماری کے ہوتے ہیں اور کام نہ کرنے کا خیال ہی مرض کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔غرض کام سے بے دلی اور تنفر بیماری اور مرض کی علامت ہے۔اس کے مقابلہ میں سچا اور اصل انعام یہی ہوا کہ انسان کے اندر کام کی خواہش باقی رہے اور جب تک کام کی خواہش رہتی ہے دل میں اُمنگیں ولولے اور جذبات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔اور جب کام کی خواہش نہیں رہتی دل بھی پڑ مُردہ ہو جاتا ہے۔بعض لوگ مرنے کے بعد زندگی کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ وہاں کوئی کام نہیں ہو گا لیکن اس زندگی کے متعلق یہ سمجھنا کہ اس میں کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا انتہاء درجہ کی بے وقوفی اور سخت درجہ کی حماقت ہے۔وہاں تو یہاں سے بھی زیادہ کام ہو گا لیکن نہ ایسا کام جو تکلیف کا موجب ہو اور مصیبت معلوم دے بلکہ اس کام کے کرنے سے بشاشت پیدا ہوگی اور بڑھتے ہوئے جذبات کے ساتھ وہاں کام ہو گا کیونکہ وہاں کوئی بیماری کوئی مرض کوئی پژمردگی نہیں ہوگی۔غرض عدم استقلال بیماری کی علامت ہے۔دنیا میں بھی اس کے بدنتائج نکلتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتلایا دین میں تو اس کی خرابی بہت ہی زیادہ ہے۔پس میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ استقلال کی صفت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے ساتھ یہی سلوک ہے کہ جتنا جتنا اس کا بندہ رب العلمین کی صفت اختیار کرتا چلا جائے گا اتنا ہی خدا اس کے لئے رب العلمین بنے گا۔جتنا کوئی رحیم بنے گا اتنا ہی وہ اس کے لئے رحیم بنے گا جتنا کوئی رحمن بنے گا اتنا ہی اس کے لئے اس کی صفت رحمانیت بڑھتی چلی جائے گی۔اور بندہ جتنی مالکیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے گا اتنا ہی خدا تعالیٰ کی مالکیت کا سلوک ترقی کرتا چلا جائے گا۔پس عبادات، معاملات اور سلسلہ کے لئے قربانیوں کے کرنے میں ترقی کرتے جاؤ۔لیکن اگر ترقی نہیں کر سکتے تو کم سے کم جو کام شروع کر دیا شروع کر چکے ہو، اس میں استقلال کے ساتھ قائم رہو۔مومن کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ تنزل نہ کرے اور اگر بڑھ نہیں سکتا تو ایک جگہ ٹھرا تو رہے۔اور اگر وہ ایسا کرے گا اور صبر سے کام لے گا تو یقینا وہ انعام بھی حاصل کرے گا اور جب انعام حاصل ہونے شروع ہو جائیں گے تو پھر اسے استقلال اور صبر کی تلقین کی بھی ضرورت نہیں رہے گی، بلکہ وہ دوسروں کو نصیحت اور وعظ کرے گا کہ نیکی کے کام کرو ان پر مداومت اختیار کرو۔اس طرح کرنے سے تمہیں بھی انعام ملیں گے جس طرح مجھے ملے۔