خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 546

خطبات محمود ۵۴۶ سال ۱۹۳۲ء کرتے ہیں اور ان کے لئے بھی جو دوسروں کا مال چراتے ہیں ، ان کے لئے بھی جو دل کے صاف ہیں اور ان کے لئے بھی دل کے کھوئے ہیں ان کے لئے بھی احکام ہیں جو عبادات بجالاتے ہیں اور انکے لئے بھی جو نمازوں میں ست ہیں ، افسروں کے لئے بھی احکام ہیں اور ماتحتوں کے لئے بھی خاوندوں کے لئے بھی اور بیویوں کے لئے بھی والدین کے لئے بھی اور بچوں کے لئے بھی دوستوں کے لئے بھی اور دشمنوں کے لئے بھی ہم قوم اشخاص کے لئے بھی اور ان کے لئے بھی جو غیر قوموں سے تعلق رکھتے ہیں ، پھر اپنے مذہب والوں کے لئے بھی احکام ہیں اور غیر مذاہب والوں کے لئے بھی ملکیوں کے لئے بھی اور غیر ملکیوں کے لئے بھی، غرض دنیا کا کوئی کام اور کوئی شعبہ ایسا نہیں جس کے لئے اللہ تعالٰی کے احکام موجود نہ ہوں مگر ہم میں سے جو کمزور ایمان والے ہیں اگر ان کے سامنے کوئی عمل کے لئے بات رکھی جائے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ استثنائی صورت ہے۔اور یہ کہ اگر اس پر عمل کیا جائے تو امن قائم نہیں رہ سکتا۔یہ نہیں کہ جب وہ ایسا کہہ رہے ہوتے ہیں تو قرآن کو جھوٹا سمجھتے ہیں وہ قرآن کو سچا سمجھتے ہیں بلکہ جب وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں تب بھی قرآن کو سچا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔لیکن نقص یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتے ہیں کہ ہر چیز میں استثناء ہوتا ہے۔اور وہ اس امر کو بھول جاتے ہیں کہ استثناء کے لئے بھی قاعدے مقرر ہیں۔وہ یہ تو جائیں گے کہ اگر دونوں ہاتھ کٹ جائیں تو وضو کرنا نا ممکن ہو گا یا اگر لاتیں کٹ جائیں تو پاؤں دھونے سے منتقلی ہو جائیں گے لیکن وہ یہ نہیں سوچیں گے کہ آیا ان کے پاؤں نہ دھونے یا وضو نہ کر سکنے کی یہی وجہ ہے یا کچھ اور۔وہ استثنائی صورتوں کو دیکھ کر اپنے آپ کو ان کے ماتحت لانے کی کوشش کریں گے۔اور اس طرح باو جودا جمالی ایمان حاصل ہونے کے تفصیلی ایمان حاصل کرنے سے محروم ہو جائیں گئے۔میں نے کئی لوگوں سے یہ بات سنی ہے جب انہیں کہا جائے کہ شریعت نے فلاں مسئلہ بتایا ہے تو وہ کہہ دیں گے ٹھیک ہے لیکن آج کل اس پر عمل کرنے سے بدامنی پھیلتی ہے۔گویا قرآن مجید نعوذ با الله بد امنی پھیلانے کے لئے آیا ہے۔اگر ایسے لوگ اپنے اس قول کی آپ ہی تشریح کریں تو انہیں معلوم ہو کہ وہ قرآن مجید پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ گویا اس کی تعلیمات بدامنی پھیلانے کا موجب ہیں۔حالانکہ اس کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو انسان کو تباہی کی طرف لے جائے۔چنانچہ دیکھ لو قرآن مجید کی ابتداء ہی اس سوال سے ہوتی ہے۔اللہ تعالی فرماتا ہے الم ذَلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ عَلى بات جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بتائی ہے یہ ہے کہ لا رَيْبَ فِيهِ یعنی قرآن کریم میں کوئی ایسا