خطبات محمود (جلد 13) — Page 529
خطبات محمود ۵۲۹ سال ۱۹۳۲ء | سامان رہتا ہی نہیں۔لیکن ان موقعوں پر اپنی ضرورتوں کا پورا کرنا اشد ضروری ہوتا ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَه دَعوة الحق یعنی اگر تم سوچو تو بے شک اسباب بھی ہیں۔لیکن دعوة الحق تو اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔یعنی وہ پکار جس کا جواب دیا جاتا ہے خدا ہی کی پکار ہے۔اسباب اور خدا تعالیٰ کی پکار میں فرق یہ ہے کہ اسباب کو بھی انسان پکارتا ہے لیکن وہ پکارنا در حقیقت اسباب کے پاس خود جانتا ہو تا ہے۔اگر کوئی شخص کنویں پر جا کر کے آجاپانی میرے مونہہ میں آجا تو پانی اس کے مونہہ میں نہیں آئے گا۔خواہ وہ کتنا ہی چلاتا رہے۔در حقیقت جب تم یہ کہتے ہو کہ پانی نے ہمیں میر کیا تو اس وقت پانی نے میر نہیں کیا ہو تا بلکہ تم نے خود اپنے آپ کو پانی کے واسطے سے میر کیا ہوتا ہے۔جب کوئی پانی کو پکارتا ہے تو پانی اسکے پاس نہیں آتا بلکہ وہ پانی کے پاس جاتا ہے۔اسباب تک تو انسان کو جانا پڑتا ہے لیکن دعا اس وقت کام آتی ہے جب اسباب ختم ہو جاتے ہیں۔اور ہمارے اختیار سے باہر ہو جاتے ہیں۔وقت اور اسباب کا مہیا ہونا اللہ تعالیٰ کے خاص فضل پر موقوف ہوتا ہے۔اور اسی کو پکارنا اس وقت کام آتا ہے نہ کہ اسباب کو پکارنا۔اور نہ ہی کوئی انہیں پکارتا ہے۔جیسا کہ فرمایا کہ دَعْوَةُ الْحَقِّ یعنی حقیقی پکار اللہ کے لئے ہی ہوتی ہے۔ہم اسباب کو استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں ہو تاکہ روٹی یا پانی یہ کہیں کہ چلو آج فلاں کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے ہم اسکے پاس چلے جائیں۔مگر خدا یہ کرتا ہے کہ جب انسان کے پاس سامان نہیں رہتے تو وہ خود سامان مہیا کر دیتا ہے۔یا بغیر سامان کے ہی کام کر دیتا ہے۔غرض دعا کا ایک ایسا مقام ہے جو اسباب میں اور دعا میں فرق کرتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ نظارہ کسی نے بھی نہیں دیکھا۔بات یہ ہے کہ اعلیٰ درجہ کی چیز اعلیٰ درجہ کے لوگوں کو ملتی ہے۔اگر کوئی نہیں دیکھتا تو اس لئے کہ وہ اس قابل نہیں جن لوگوں نے کامل محبت کے نمونے دکھائے ، ان کو ایسے کرشمے دیکھنے کا موقع ملا۔آخر محبت ہی ہے جو دوسری محبت یعنی محبت الہی کو کھینچتی ہے۔عمرو بن عاص بیان کرتے ہیں کہ اسلام لانے سے پہلے مجھے آنحضرت میں سے اس قدر دشمنی تھی کہ میں آپ کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا پسند نہیں کرتا تھا۔اور یہ کہ میرا اور آپ کا ایک چھت کے نیچے جمع ہونا نا ممکن تھا۔لیکن آخر محبت نے یہ حالت پیدا کر دی کہ جب وہ مسلمان ہوئے تو انہیں آپ کے قرب سے زیادہ اور کوئی چیز پیاری نظر نہ آتی تھی۔اور حیاء کی وجہ سے وہ آنکھ اٹھا کر آپ کی طرف نہ دیکھ سکتے تھے۔اسی طرح حضرت عمرؓ کو دیکھو یا تو وہ وقت تھا کہ رسول کریم مل مل کے قتل کے لئے اپنے گھر سے تلوار لے کر نکلے یا پھر وہ وقت آیا کہ تلوار لے