خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 524 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 524

خطبات محمود ۵۲۴ سال ۱۹۳۲ء خود پسندی کے وعدوں سے ملبوس نہ ہو۔اپنی زبان سے مت کہے کہ میں کسی کو مٹاڈالوں گا۔مٹانا خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔چھوٹے چھوٹے ذلیل آدمی اٹھتے ہیں اور بڑے بڑے بادشاہوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔ہمایوں جب پٹھانوں کو شکست دے کر اپنے لشکر کے ساتھ واپس آرہا تھا تو وہ اپنی فتح پر بہت نازاں تھا۔اور بعض تو کہتے ہیں کہ اس وقت اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اب خدا کو بھی اس لشکر کے مٹانے میں کچھ دیر ہی لگے گی۔لیکن ابھی وہ اپنے مقام سے ہلا بھی نہ تھا کہ پٹھانوں نے ایسا حملہ کیا کہ جان بچانی مشکل ہو گئی۔اور اس واقعہ کو تو بچے بھی جانتے ہیں کہ کس طرح ایک مقہ نے اس کی جان بچائی۔یا تو تھوڑی دیر پہلے ہندوستان کا فاتح تھا یا اب یہ حالت ہو گئی کہ جان بچا کر ہندوستان سے اس کو بھاگنا پڑا۔غرض محض بڑائی اور تکبر کوئی چیز نہیں۔ہم نے بڑے بڑے خود پسندوں کو دیکھا ہے جن کی آخری حالت کے تصور سے رونا آتا ہے۔نپولین نے معمولی حیثیت سے ترقی کی۔وہ ایک ایسے جزیرہ کا رہنے والا تھا جو اسی طرح فرانسیسیوں کے ماتحت تھا جس طرح ہندوستان آج کل انگریزوں کے ماتحت ہے۔جن دنوں وہ سکول میں پڑھا کرتا تھا لڑکے اس پر ہنسا کرتے تھے۔اور اس کو SmallCorsican (چھوٹا کار میکن) کر کے پکارا کرتے تھے۔کیونکہ اس کا قد چھوٹا تھا اور صحت بھی معمولی ہی تھی۔مگر وہی بچہ جوانی کی عمر میں بغیر کسی سابقہ تجربہ کے بہت جلد اور بہت بڑی آسانی کے ساتھ بادشاہ ہو گیا۔اس کے بعد وہ جلد ہی غلام ہو کر مرا۔اس کی ترقی بھی غیر معمولی ہی تھی اور اس کا تنزل بھی غیر معمولی تھا۔اگر ابتدائی عمر میں اس کو کوئی کہتا کہ تو بادشاہ بن جائے گا تو وہ کس طرح یقین کر سکتا تھا۔یا وہ جب بادشاہ تھا اس وقت کوئی کہتا کہ تو غلام بن جائے گا تو اس کو کیسے اعتبار آسکتا تھا۔پس مومن کو چاہئے کہ ایک طرف تو ایسے مضبوط ایمان والا ہو کہ کسی سے نہ ڈرے اور نہ یہ سمجھے کہ میں اکیلا ہوں۔اور دوسری طرف طاقت حاصل ہونے پر اسے غرور بھی نہ ہو۔اگر دشمن کے مقابلہ میں ہم محض اپنے غصہ ہی کو نکالیں اور منہ سے دھمکی دے کر رہ جائیں تو اس سے کیا فائدہ - ہماری دھمکی سے دشمن تو نہ مٹے گا مگر ہم بے جا فخر کی وجہ سے ضرور مٹ جائیں گے۔کیونکہ اس طرح ہم خدا کو چھوڑنے والے ہوں گے۔غرض ایک طرف جھوٹے دعووں اور عائل باتوں سے مؤمن کو بیچنا چاہئے اور دوسری طرف بُزدلی کو بھی پاس نہ آنے دینا چاہئے۔کیونکہ بزدل انسان کامیابی کی جنت کو نہیں پاسکتا۔بچی بہادری ہی اپنے پیچھے فتح و نصرت کی جنت لاتی ہے۔اور یہی پل صراط ہے جس پر سے ہر ایک کو گزرنا پڑے گا۔پس دشمن کے ساتھ مقابلہ