خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 523

خطبات محمود ۵۲۳ سال ۱۹۳۲ گرجتے بہت ہیں لیکن برستے کم ہیں۔وہ جھاگ کی طرح اٹھتے ہیں اور بھاگ کی طرح ہی بیٹھ جاتے ہیں۔مؤمن کو چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل رکھے مٹانے والا بھی خدا ہے اور بڑھانے والا بھی خدا ہے جس کو وہ چاہتا ہے مٹاتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔دنیا میں اس بات کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ ایک قوم دوسری قوم کو مٹانا چاہتی ہے لیکن جب تک خدا تعالی کی مدد شامل حال نہ ہو کوئی قوم کسی قوم کو ہرگز مٹا نہیں سکتی۔ترکوں کو مٹانے کی تمام مغربی طاقتوں نے کوشش کی مگر وہ انہیں مثانہ سکیں کیونکہ الہی منشاء انہیں باقی رکھنے کا تھا۔یورپ کی طاقتوں نے ترکوں کے علاقے کو بانٹ لیا مگر پھر بھی ترک قائم رہے۔مسٹر ولسن نے ترکوں کو اپنے چودہ نقاط میں نہ رکھا مگر پھر بھی وہ جیت گئے۔ناتواں ترکوں کو لوگوں نے مٹانا چاہا مگر خدا نے نہ چاہا کہ وہ مٹیں۔غرض مادی دنیا میں ایسی بہت سی مثالیں ملتی ہیں اور دین میں تو ایسی سینکڑوں نہیں ہزاروں بلکہ لاکھوں مثالیں موجود ہیں۔دنیا نے ہر ایک مامور اور ہر ایک رسول کو مٹانا چاہا لیکن خدا تعالیٰ انہیں رکھنا چاہتا تھا لہذاوہ رہے۔اور دنیا کے لوگ اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہو سکے۔پس میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ حقیقی بہادر بننے کی کوشش کریں اور دنیا کی دھمکیوں سے نہ ڈریں کیونکہ اسلام یہی حکم دیتا ہے۔بعض لوگ دھمکیاں دینے والوں سے بہت ڈرتے ہیں۔ایسے لوگوں پر مجھے نفسی آیا کرتی ہے۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں میں نے ایک مضمون لکھا جس پر ظفر علی خاں ایڈیٹر زمیندار ناراض ہو گئے اور کہنے لگے کہ میں ایک ہی جنبش قلم سے تو تو میل تک کے احمدیوں کو مٹاڈالوں گا۔یہ پہلا موقع تھا مسٹر ظفر علی خاں میری مخالفت پر اتر آئے۔ہمارے ایک دوست انکی اس بات سے ایسے گھبرائے کہ لاہو ر سے بھاگے بھاگے آئے اور آکر مجھے کہنے لگے یہ آپ نے کیا غضب کر دیا۔میں نے کہا کہ کیا ہوا کہنے لگے آپ نے ایک ایسا مضمون لکھ دیا ہے جس پر مسٹر ظفر علی خاں سخت ناراض ہو گئے ہیں۔اور وہ کہتے ہیں کہ میں ایک جنبش قلم سے تو تو میل تک کے احمدیوں کو مٹاڈالوں گا۔میں نے ہنس کر کہا کہ ظفر علی خاں کیا چیز ہے کہ احمدیت کو مٹائے۔اس کی اپنی گردن خدا کے ہاتھ میں ہے۔چنانچہ تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ ان سے ضمانت لی گئی پھر وہ ضبط ہو گئی۔اسکے بعد پریس رک گیا اور جلدی ہی اخبار بند ہو گیا۔غرض کئی لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں اور مخالفوں کی جھوٹی دھمکیوں سے ڈر جاتے ہیں۔لیکن مومن کو ساری دنیا کی دھمکیوں سے بھی نہیں ڈرنا چاہئے۔اور اس کے دل میں کبھی یہ خیال بھی پیدا نہ ہونا چاہئے کہ کوئی قوم مجھ کو مٹا سکتی ہے۔ہاں اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی زبان تکبر اور