خطبات محمود (جلد 13) — Page 522
خطبات محمود ۵۲۲ سال ۱۹۳۲ء ۱۲ گزر رہی ہوتی ہے یا بزدلی کی حالت میں سے۔دیکھو سکھ جو پنجاب میں گیارہ بارہ لاکھ سے زیادہ نہیں ، اس وقت کہہ رہے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو ان کے حقوق دیئے گئے تو ہم ملک کو برباد کر دیں گے۔اس پر ایک طرف بعض مسلمان تو تھرا رہے ہیں کہ خبر نہیں کیا ہو جائے گا اور سکھ کیا کر دیں گے اور دوسری طرف بعض اور ہیں جو بالمقابل اسی قسم کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔دیکھو جو خدا کی طاقت کو نظر انداز کر دیتا ہے وہ غلطی کرتا ہے اور ایسا شخص جلد تباہ ہو گا۔اور اپنی تباہی کا آپ ہی موجب ہو گا۔اس کی تباہی انسان کے ہاتھ سے نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ سے ہو گی۔اگر چہ ہندوؤں اور سکھوں کی دھمکیاں بھی جائے تعجب ہیں تاہم وہ انہیں عمل میں لانے کے لئے بھی کوشش کر رہے ہیں۔لیکن مسلمان خالی دھمکیاں دیتے ہیں اور کرتے کچھ بھی نہیں۔کشمیر کی تحریک ہی کو دیکھ لو شروع شروع میں کس زور و شور سے اٹھی تھی۔تمام ملک میں ایک آگ سی لگ گئی تھی لیکن اب جب کہ مسلمانان کشمیر کو حقوق ملنے کا وقت آیا ہے سب خاموش ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔جو پہلے شور مچارہے تھے اور دھمکیاں دیتے تھے کہ ہم ہندوستان سے انگریزوں کو بھی نکال دیں گے وہ اب اعتدال پسند لیڈروں سے درخواستیں کر رہے ہیں کہ وہ آگے کیوں نہیں آتے اور کیوں احرار کے لیڈروں کو جیلوں سے باہر نہیں نکلواتے۔ماڈریٹ تو ان کے نزدیک بزدل تھے۔بُزدل بھلا انہیں کیسے باہر نکال سکتے ہیں۔اگر مؤمنانہ شیوہ اختیار کرتے اور خدا تعالیٰ پر تو کل کرتے۔تو خدا تعالیٰ خود ہی ان کی طرف سے ان کے بدخواہوں کو دھمکی دیتا اور خود ہی اسے پورا کر کے دکھاتا۔مومن کا کام صرف کوشش کرنا ہے، دھمکی دینا خدا کا کام ہے۔اگر یہ بات مسلمانوں میں پیدا ہو جاتی تو دوسری قوموں کو ہرگز جرات نہ ہوتی کہ وہ مسلمانوں کو دھمکی دیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللَّهِ یعنی اگر خدا تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہو تو چھوٹی جماعت بڑی جماعت پر غالب آجاتی ہے۔ایک دفعہ آنحضرت میاں یا لیلی نے حکم دیا کہ مردم شماری کی جائے جب کرائی گئی تو مسلمان سات سو نکلے۔اس پر صحابہ نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اب جب کہ ہم سات سو ہو گئے ہیں کیا اب بھی ہم کو کوئی تباہ کر سکتا ہے۔یا تو وہ وقت تھا اور یا اب یہ وقت ہے کہ مسلمان نو کروڑ ہیں اور ڈر رہے ہیں۔یہ نتیجہ ہے اس بات کا کہ مسلمانوں میں خالی دھمکیاں ہی رہ گئی ہیں۔اور ان خالی دھمکیوں اور نرے دعووں نے مسلمانوں کے اندر بزدلی پیدا کر دی ہے۔مثل مشہور ہے "جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں۔" بد قسمتی سے مسلمانوں کے اندر بھی یہ مرض پیدا ہو گیا ہے کہ وہ