خطبات محمود (جلد 13) — Page 520
طبات محمود ۵۲۰ سال ۱۹۳۲ء کی کچھ پرواہ نہیں کرے گا کیونکہ وہ مسلمان ہے اور اس کا خدا پر ایمان ہے۔اور اگر کوئی مسلمان بادشاہ ہو کر ایک چوہڑے سے بھی کہے کہ میں تجھ سے سمجھ لوں گا تو ایسا کہنے پر وہ اسلام سے دور جا پڑے گا۔پس اسلام سے دور ہو کر ایک چوہڑا بھی کہہ سکتا ہے کہ میں یوں کروں گا لیکن اسلام کے اندر رہ کر ایک بادشاہ بھی ایسی دھمکی نہیں دے سکتا۔اور اگر وہ ایسا کرے گا تو اپنی ایمانی کمزوری کو ظاہر کرنے والا ہو گا۔آج کل قو میں ایک دوسرے کو دھمکا رہی ہیں۔یہ دھمکی بعض اوقات تو حقیقی ہوتی ہے جیسے ایک آدمی کسی بچے سے کسے کہ میں تم کو تھپڑ ماروں گا اور وہ ایسا کر بھی سکتا ہے اور بعض اوقات بے حقیقت اور جھوٹی ہوتی ہے جیسے ایک بچہ کسی بڑے آدمی سے کہے کہ میں تم کو ماروں گا۔یہ جھوٹ ہو گا کیونکہ وہ ایسا نہیں کر سکتا۔یا جیسے ایک طاقت رکھنے والا آدمی کسی برابر طاقت والے آدمی کو مارنے کی دھمکی دے لیکن اس کا مقصد ہاتھ اٹھانا نہ ہو تو یہ فریب ہو گا۔ان تینوں صورتوں میں سے مسلمان اگر ایک بھی اختیار کرتا ہے تو وہ اپنے ایمان کو چھوڑتا اور ضائع کرتا ہے کیونکہ اسلام نے ہمیں یہ سکھلایا ہے کہ ہم اپنی طاقت سے کچھ بھی نہیں کر سکتے۔سب کچھ خدا ہی کرتا ہے۔پس اگر کوئی مسلمان اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ایسا کرتا ہے تو غلطی کرتا ہے کیونکہ اس طرح وہ خدا کے احسان کی ناقدری کرتا ہے۔اور اسی بات کو بھول جاتا ہے کہ یہ اسی کی عطا کر دہ چیز ہے جس کو وہ اپنی طرف منسوب کر رہا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی آقا اپنے نوکر کو کسی کی مدد کے لئے کچھ دے تو غلام جا کر کے کہ یہ میں اپنی طرف سے دے رہا ہوں۔اب ظاہر ہے کہ اگر وہ ایسا کرے تو یہ اس کی غلطی ہو گی اور وہ جھوٹ بول رہا ہو گا۔بہر حال ایسا دعوئی دو صورتوں سے خالی نہیں ہو سکتا۔اگر ایسا دعوی کرنے والے میں طاقت نہیں اور باوجود اسکے وہ دعوی کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہو گا۔اور اگر اسے خدا تعالیٰ نے اسکی طاقت دی ہے اور وہ اسے اپنی طرف منسوب کر کے یہ دعویٰ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ کا نا شکرا ہے۔اور ان صورتوں کے مقابل پر ایک صورت یہ ہے کہ انسان دوسرے سے دب کر بالکل بیٹھ جائے لیکن یہ بزدلی ہے جس کو اسلام جائز نہیں قرار دیتا۔بزدل انسان ترقی نہیں کر سکتا۔یہ وہ چیز ہے کہ اگر کوئی بادشاہ ہو کر بھی اسے اپنے اند ر پیدا کرے تو اس کی بادشاہت جاتی رہے گی۔اور بزدلی تو کل کے بھی خلاف ہے۔مومن کے لئے قوموں کے مقابلہ پر پل صراط پر سے گزرتا ہے جس سے ادھر ادھر ہوتا برباد کرنے والا ہو گا۔آج بعض لوگ ہمیں بھی دھمکی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم کو کچل ڈالیں گے۔اگر ہم بھی اس کے جواب میں 1۔