خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 500

خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء غنیمت میں آئے۔اس وقت وہی عمر جو ریشم کا جبہ پہنے پر زجر کھا چکے تھے اس شخص کو بلاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کنگن پہن لو۔وہ صحابی پروٹسٹ کرتا اور کہتا مردوں کے لئے کنگن پہنانا جائز ہے۔مگر آپ کہتے میں جائز نا جائز نہیں جانتا۔انہیں پہنو ورنہ میں کوڑے ماروں گا۔میں نے رسول کریم سے تمہارے متعلق سنا ہے کہ آپ نے تمہارے ہاتھوں میں کسری کے کنگن دیکھے آخر کنگن پہنائے گئے۔غرض وہی کنگن جو میرے اور تمہارے ہاتھ میں گناہ بن جاتے ہیں اس صحابی کے ہاتھ میں ثواب کا موجب ہو گئے۔پس عارف انسان وہی ہوتا ہے جو ہر چیز کی حقیقت سمجھ کر اس کے مطابق سوچتا اور عمل کرتا ہے۔اور انسان اور جانور میں یہی فرق ہے کہ انسان موقع اور محل دیکھ کر کام کرتا ہے۔مگر جانور کے لئے ایک راستہ مقرر ہے جس پر وہ بلا سوچے سمجھے چلا جاتا ہے۔ه۔میں نے پچھلے دنوں جب کشمیر کا کام شروع کیا تو کئی اپنی جماعت کے لوگ مجھے کہتے کہ یہ دنیا کا کام ہے اس میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔حالانکہ ان لوگوں کی بینائی ہوتی تو وہ سمجھتے کہ یہ دنیا کا کام نہیں بلک دین کا کام ہے۔اسی طرح کئی اور ایسے کام ہیں جو دنیا کے نظر آتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ وہ دین کے ہیں اور جب میں ان میں دخل دوں تو بعضوں کو ٹھوکر لگ جاتی ہے۔مگر میں ایسے موقعوں پر ان کی ٹھوکر کی پرواہ نہیں کیا کرتا کیونکہ ہم کسی کے اعتراض کرنے سے سچائی کو نہیں چھوڑ سکتے۔اگر چہ اس وقت میرے ذہن میں کئی ضروری باتیں ہیں مگر میں دوستوں کو ایک خاص بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی بہت توجہ دلائی ہے۔مگر کئی دوست ایسے ہیں کہ وہ اسے بھی دنیا کا کام خیال کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس امر پر بہت ہی زور دیا ہے اور اتنازو ر دیا ہے کہ اس پر عمل کرنا دین کی باتوں پر عمل کرنے کے مترادف ہو گیا ہے کہ ملک سے فتنہ وفساد کی روح کو مٹانا اور امن شکن تحریکات کا مقابلہ کرنا چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فخریہ لکھا ہے کہ میری کوئی کتاب ایسی نہیں جس میں میں نے گورنمنٹ کی تائید نہ کی ہو۔مگر مجھے افسوس ہے کہ میں نے غیروں سے نہیں بلکہ احمدیوں کو یہ کہتے سنا ہے میں انہیں احمدی ہی کہوں گا کیونکہ نابینا بھی آخر انسان ہی کہلاتا ہے کہ ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایسی تحریر میں پڑھ کر شرم آجاتی ہے۔انہیں شرم کیوں آتی ہے اس لئے کہ ان کی اندر کی آنکھ نہیں کھلی۔اگر ان کی اندرونی آنکھ کھلی ہوتی تو وہ سوچتے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس تائید کے