خطبات محمود (جلد 13) — Page 495
خطبات محمود ۴۹۵ سال ۱۹۳۲ء ہو گا۔اور اس سے بڑھ کر اس کی کوئی حقیقت نہ ہوگی۔انسانی جسم کی بناوٹ کو ہی دیکھ لو۔علم الابدان کے واقف اس کی کتنی باریکیاں بیان کرتے ہیں۔ہڈیوں کی اقسام، مختلف جوڑوں کا تناسب خون میں امتیاز یہ سب باتیں وہ بیان کرتے ہیں۔اور اب تو یہاں تک اس علم نے ترقی کی ہے کہ ماہرین فن جسم سے خون لے کر بتا دیتے ہیں کہ فلاں شخص کا فلاں بیٹا ہے یا نہیں۔کیونکہ خون کی اقسام ہیں جن سے جسم کے اعضاء بنتے ہیں۔اور ماہرین ان کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اس شخص میں اس قسم کا خون موجود ہے یا نہیں۔چنانچہ جو منی میں پچھلے ایام میں ایک ریاست کا فیصلہ اسی علم کی رو سے ہوا۔باپ کہتا کہ فلاں میرا بیٹا نہیں۔آخر جب بیٹا بنے والے کا خون دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ اس کے اندر خون کی ایک ایسی قسم تھی جو اس نسل کے خون میں پیدا ہی نہیں ہو سکتی تھی جس میں سے وہ شخص تھا جسے باپ کہا جاتا تھا۔گورنمنٹ نے اس فیصلہ کو قائم رکھا اور قرار دیا کہ یہ اس کا بیٹا نہیں ہے۔غرض اللہ تعالٰی نے دنیا کی چیزوں میں عظیم الشان تنویع پیدا کی ہے۔اور قرآن مجید میں اس کا بار بار ذکر آیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ ہر چیز کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔مگر ان اقسام کے متعلق دیگر مذاہب بالکل خاموش ہیں۔اور اگر ہم اسلام کی ان تشریحات کو بیان کرنا شروع کر دیں تو اسی کے ماتحت اسلام کی عظیم الشان فضیلت ظاہر ہو سکتی ہے۔مگر عام لوگ اس حقیقت سے آنکھ بند کرتے ہوئے صرف دین اور دنیا کے دو لفظ اپنے سامنے رکھتے ہیں۔وہ ہر چیز کو یا تو دینی کہہ دیں گے یا دنیوی۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ باوجود دینی ہونے کے ایک چیز دنیوی ہو سکتی ہے۔اور ایک چیز دنیوی دائرہ کے اندر ہوتے ہوئے دینی بن جاتی ہے۔مگر ایک ماہر فن اور روحانی عارف ہی ان باتوں کو سمجھ سکتا ہے۔ناواقف آدمی ایسے مقامات پر دھوکا کھا جاتا ہے۔بسا اوقات حد سے زیادہ ایک دینی حکم کے قشر کی طرف چلے جانا اسے دنیاوی کام بنا دیتا ہے۔اور بسا اوقات اگر ایک دنیا دی کام کو دینی نظر سے دیکھیں تو وہ دین کا کام نظر آتا ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک مسلمان رئیس کسی طبی مشورہ کے لئے میرے پاس آئے۔میرا ایک عزیز بھی پاس بیٹھا تھا۔اس رئیس کا پاجامہ ذرا نیچے ڈھل کا ہوا تھا۔یا نسبتا ذر المبا تھا۔بہر حال اس پاجامے سے ٹخنے چھپے ہوئے تھے۔چونکہ احادیث میں آتا ہے کہ پاجامہ اس طرح نہیں ہونا چاہئے جو ٹخنوں سے نیچے ہوا جس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عرب میں رؤساء اپنی امارت جتانے کے لئے ایسا کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں کپڑا کم ہو تا تھا اس لئے غرباء پر اپنی بڑائی جتانے کے لئے امیر لوگ کپڑا لٹکا کر چلا کرتے تھے۔اور