خطبات محمود (جلد 13) — Page 473
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء لوگوں کو عطا کرتا ہے جن کے دلوں میں شفقت ہوتی ہے۔رافت ہوتی ہے اور لوگوں کے لئے محبت ہوتی ہے۔اگر کسی بدی کو دیکھ کر بجائے اس کے کہ تمہاری آنکھیں سرخ ہوں ان سے آنسو بہہ نکلیں تو میں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ فورا اس کا اثر شروع ہو جائے۔مگر تم بجائے دوسرے کی بدی پر آنسو بہانے کے لٹھ لے کر اس کے پیچھے دوڑتے ہو۔اور پھر شکوہ کرتے ہو کہ اصلاح نہیں ہوتی۔کبھی لٹھ مارنے سے بھی دوسرے کی اصلاح ہو سکتی ہے۔تم اس طریق پر عمل کرو جو قرآن کریم نے مقرر کیا ہے اور پھر دیکھو کہ تمہاری باتوں کا اثر ہوتا ہے یا نہیں۔قرآن مجید نے تمہیں بتایا ہے کہ جب تم کسی بچہ کو بدی کرتے دیکھو تو بجائے لٹھے مارنے کے اس کے لئے روڈ اور چیخو اور چلاؤ کہ ہائے ہمارے اس بچے کو کیا ہو گیا۔اگر اس کا باپ نیک آدمی تھا یا نیک آدمی ہے تو تم اس بچے کو علیحدگی میں لے جاؤ اور سمجھاؤ کہ تمہارا باپ نیک آدمی ہے بڑی عزت رکھتا ہے۔مگر تم میں یہ غلطی پائی جاتی ہے اس کی اصلاح کر لو۔اگر تم اس طریق پر عمل کرو تو دیکھو کہ فورا اس کے چہرے پر نرمی کے آثار نظر آنے لگیں گے۔اور وہ رو کر اقرار کرے گا کہ آئندہ اس بدی کے قریب بھی نہیں جائے گا۔مگر تم اس وقت اصلاح کے طریق نکالتے نکالتے قرآن مجید کو اس طرح چھوڑ رہے ہو۔جس طرح نَعُوذُ باللہ ایک پرانی جوتی کو اتار کر پھینک دیا جاتا ہے یا جس طرح میلا کپڑا اپنے جسم سے اتار پھینکتے ہو۔تم نہ احمدی کہلا سکتے ہو اور نہ مسلمان۔تمہاری حالت تو نہایت ہی ابتر ہے اور تم تو کہیں کے بھی نہیں رہے۔تم نے اپنی تدبیروں کا چولہ پہن لیا ہے۔مگر قرآن مجید کی بتائی ہوئی تدبیروں کا چولہ اتار پھینکا ہے اور جب قرآن مجید تم نے علیحدہ کر دیا ہے تو تمہاری باتوں میں کیا اثر ہو سکتا ہے۔پس یاد رکھو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پہلے اپنی اصلاح کرو اور پھر دوسروں کی اصلاح کے لئے کھڑے ہو۔اسی طرح وہ لوگ جن کے گھروں میں اللہ تعالیٰ نے ایسے ظالم بچے دیئے ہیں ان کا فرض ہے کہ یا تو وہ ان کی اصلاح کریں یا قوم کے حوالے کر دیں کہ ان کی اصلاح کرو۔اسی طرح وہ بیوی جو اپنے آوارہ گرد بچوں کا ساتھ دیتی ہے اور سمجھانے پر بھی باز نہیں آتی تمہارا فرض ہے کہ تم اسے طلاق دے کر علیحدہ کردو۔غرض والدین کا کام تو یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں پر سختی کریں اور دوسروں کا کام یہ ہے کہ ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کریں۔جس وقت ایک باپ اسلام اور دین کی غیرت سے اپنے بچے کو گھر سے نکال دیتا ہے تو اس وقت تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اپنے دروازے اس کے لئے کھول دو۔اور اسے سمجھاؤ کہ تمہارے باپ نے تمہیں نکال دیا ہے۔مگر ہم تمہیں پناہ دیتے ہیں تم نے جو کچھ کیا خراب کیا۔اب اپنی اصلاح کرو۔