خطبات محمود (جلد 13) — Page 467
سال ۱۹۳۲ خطبات محمود کریم کا تکلیف تھی۔وہ بار بار اس کا اظہار کر رہے تھے۔ان کے بیٹے نے ان سے کہا آپ گھبراتے کیوں ہیں۔آپ نے تو اسلام کی بہت بڑی خدمات سرانجام دی ہیں۔پھر مرنے کا کیا خوف ہے۔انہوں نے کہا اے میرے بیٹے ! اگر رسول کریم میر کی زندگی ہی میں میری وفات ہو جاتی تو مجھے گھبراہٹ نہ ہوتی۔آپ کے وصال کے بعد نہ معلوم فتنہ و فساد کے زمانہ میں ہم نے کیا کیا حرکتیں سرزد ہوئیں۔اور نہ معلوم وہ خدا کو کس قدر پسند آئیں اور چونکہ اس موقع پر رسول کریم ملی الا الالم ذکر آگیا تھا۔جس پر صحابہ بے تاب ہو جایا کرتے تھے اس لئے باوجود شدت کرب اور نزع کی تکلیف کے وہ بے قرار ہو گئے۔اور انہوں نے کہا اے میرے بیٹے! ایک زمانہ تھا کہ مجھے رسول سے زیادہ نا پسند وجود دنیا میں کوئی اور معلوم نہ ہو تا تھا۔یہاں تک کہ اس نفرت و حقارت کی وجہ سے میں نے اس وقت آنکھ اٹھا کر آپ کی شکل دیکھنا پسند نہ کیا۔میں دنیا میں سے بد ترین جگہ وہ سمجھتا تھا جہاں رسول کریم میں موجود ہوتے۔اور اس نفرت میں میں اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ ایک چھت کے نیچے کبھی میں رسول کریم میں ایم کے ساتھ کھڑا ہونا پسند نہیں کرتا تھا۔میری جتنی طاقتیں تھیں وہ میں آپ کے خلاف صرف کرتا اور ہر ممکن طریق سے آپ کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتا۔پھر ایک دن وہ آیا جب اللہ تعالٰی نے میرے دل کو کھول دیا۔صداقت مجھ پر ظاہر ہو گئی۔اور مجھے معلوم ہو گیا کہ میں غلطی پر تھا۔تب میں نے رسول کریم م کو قبول کیا۔مگر اے میرے بیٹے اپھر مجھے رسول کریم میں سے اس قدر عشق ہو گیا اور اتنی گہری محبت میرے دل میں آپ کے لئے پیدا ہو گئی کہ میں اس محبت کی وجہ سے آپ کی طرف دیکھ سکا۔گویا ایک وقت تو نفرت کی وجہ سے میں رسول کریم میں کو نہیں دیکھ سکا اور دو سرے وقت رُعب حسن کی وجہ سے نہیں دیکھ سکا۔پھر اے میرے بیٹے ! میری یہ حالت ہو گئی کہ دنیا میں سب سے زیادہ پیاری جگہ مجھے وہ معلوم ہوتی جہاں رسول کریم میں موجود ہوتے۔اور چونکہ میں دونوں حالتوں میں آپ کو نہیں دیکھ سکا اس لئے آج اگر مجھ سے کوئی شخص رسول ریم میر کاحلیہ پوچھے تو میں نہیں بتا سکتا کیونکہ پہلے بغض کی وجہ سے میں نے آپ کی شکل نہ دیکھی اور پھر محبت کی وجہ سے آپ کی شکل نہ دیکھ سکا۔یہ تبدیلی جو حضرت عمرو بن العاص کے دل میں پیدا ہوئی اور جسے وہ خود بیان کرتے ہیں تم دیکھ سکتے ہو کتنی زبر دست تبدیلی ہے۔ایک وقت تو اتنا بغض کہ آپ کو اس بغض کی وجہ سے نہ دیکھ سکے۔اور پھر اتنی محبت کہ اس محبت کی وجہ سے آپ کو نہ دیکھ سکے۔مگر یہ کس چیز نے تبدیلی پیدا کی۔محض اللہ تعالیٰ کے فضل نے نہ کہ انسانی