خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 444

۶۱۹۳۲۱ ۴۴۴ خطبات محمود کے مقابلہ میں علم کو فوقیت ہوتی ہے۔ایک زمیندار نہیں جانتا کہ بنفشہ کو خاصیت کیا ہے۔یا وہ نہیں جانتا کہ کو نین کا کیا فائدہ ہوتا ہے لیکن جب ڈاکٹر یا طبیب مریض کو یہ دوائیں دیتا ہے تو مریض انہیں استعمال کرتا ہے اور کبھی یہ اعتراض نہیں کرنا کہ مجھے چونکہ ان کے فوائد معلوم نہیں اس لئے اگر میں ان دواؤں کو نہ کھاؤں تو کیا حرج ہے۔اسے بہر حال ڈاکٹروں کی بات کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔اسی طرح ہر معاملہ میں ماہر فن کی بات کو ماننا ضروری ہوتا ہے۔اس امر کو جانے دو کہ زید یا بکران حکمتوں کو سمجھتا ہے یا نہیں جو کسی امر کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔اگر ثابت ہو جائے کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو ہمیں اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ گو ہمیں کسی چیز کے فوائد کا علم نہ ہو تو بھی اللہ تعالیٰ ہمیں انہی باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن میں ہمارا فائدہ ہوتا ہے۔پس اگر ہمیں ایک چیز کے فوائد کا علم نہیں یا ایک چیز کے متعلق ہم صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکے تو بھی ہمیں یہ ضرور یقین ہوتا ہے کہ یہ خدا کا حکم ہے اور خدا کے احکام ہمارے فائدہ کے لئے ہی ہوتے ہیں۔جب ایک عقلمند انسان بھی کسی دوسرے کو ایسی بات نہیں کہہ سکتا جس میں اس کا فائدہ نہ ہو تو ہم یہ کس طرح تسلیم کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ متواتر اپنے مامور اور مرسل بھیجے اور ان کے ذریعہ تعلیم نازل کرے حالانکہ اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہ ہو۔اصل چیز دیکھنے والی یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص جو سلسلہ کی بنیاد رکھتا ہے، خدا کی طرف سے ہے یا نہیں۔اگر دلائل عقلیہ اور تجربہ سے ثابت ہو جائے کہ اس سلسلہ کا بانی خدا کی طرف سے تھا اور اس نے جو بھی تعلیم دی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی تو اگر اس کے بعض احکام ہماری سمجھ میں نہ بھی آئیں تو بھی اس کے علم کو ہمارے علم پر تقدم و تفوق حاصل ہو گا۔کیونکہ ہم یقین رکھیں گے کہ یہ عالم الغیب خدا کا حکم ہے اور ہمارا علم نہایت ہی محدود ہے۔پس ان وجوہات سے ہم عدم علم پر علم کو ترجیح دیتے ہوئے اس تعلیم کی قدر کریں گے۔اور اگر ہم اس طرح غور کریں گے تو وہی چیز جو ہمیں فروعی نظر آتی تھی اور جسے ہم ترک کر دینے کا ارادہ کر رہے تھے اصولی نظر آئے گی اور اس پر عمل کر نامدار نجات سمجھا جائے گا۔پھر چوتھی بات یہ مد نظر رکھنی چاہئے کہ کئی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو باہم مل کر ایک نتیجہ پیدا کرتی ہیں۔اپنی ذات میں اکیلی نتیجہ پیدا نہیں کر سکتیں۔کہتے ہیں کوئی شخص تھا وہ اپنے آپ کو بہت بہادر سمجھتا تھا۔ایک دن وہ ایک نائی کے پاس گیا اور کہنے لگا میرے جسم پر شیر کی تصویر گوددو - دراصل وہ بزدل تھا لیکن سمجھتا تھا کہ میں بہت دلیر ہوں۔جس وقت نائی نے سوئی ماری اور اسے درد ہوا تو