خطبات محمود (جلد 13) — Page 434
خطبات محمود مهم سموم سال ۱۹۳۲ء پیدا ہو رہی ہے کوئی علاج بتاؤ انہوں نے روحانی طریق پر یہ علاج بتایا کہ ذکر کے بجائے لاحول پڑھا کرد وہ ان کے بتائے ہوئے طریق پر لاحول پڑھتی رہیں ایک دن وہ اپنے مصلی پر بیٹھی تھیں کہ کشفی حالت میں دیکھا مصلی کے دوسرے سرے پر ایک بندر بیٹھا ہے جس نے کہا میں شیطان ہوں اور میں نے ضرور تجھ سے فرض بھی چھڑا دینے تھے لیکن تیرے بھائی نے شرارت کی۔تو شیطان نے ان سے نیکی ہی کرائی لیکن ایک طرف اتنا متوجہ کر دیا کہ دوسری سب نیکیاں بھلوادیں۔ایسی کیفیت در حقیقت یا تو جنون کا نتیجہ ہوتی ہے یا شیطانی اثرات کا۔اور جس طرح دورہ کا ہونا نیکی نہیں اسی طرح ایک نیکی کی طرف متوجہ ہو جانا نیکی نہیں۔ہمیں اسلام نے ہر بات سکھا دی ہے۔رسول کریم میں اور ہم نے فرمایا کہ انسان کو جب جنت میں داخل کیا جائے گا تو اسے ایک پل سے گزرتا ہو گا۔جس کا نام جسر الصراط ہے۔وہ بال اور تلوار کی دھار سے بھی زیادہ باریک ہو گا۔گزرنے والے نے اگر ذرا بھی غفلت کی تو کٹ کر نیچے جاپڑے گا۔لوگ سمجھتے ہیں مرنے کے بعد واقعی کوئی ایسا پل ہو گا لیکن ہر عظمند سوچ سکتا ہے ایسے بار یک پل سے انسان کیونکر گزر سکتا ہے۔اس پر سے گزرنے کے لئے یا تو انسان مداریوں کی طرح کرتب وغیرہ جانتا ہو ، جو رسوں پر چلتے ہیں یا پھر یہ کہ خود خداتعالی سکھا دے۔اگر دوسری صورت ہے تو سکھا کر گزارنے کی کیا ضرورت ہے کیوں نہ یونہی گزار دیا جائے۔پس نہ تو یہ خیال صحیح ہے کہ خدا تعالیٰ خود ہی سکھا کر گزار دے گا اور نہ یہ کہ مداریوں جیسے کرتب جانے والے ہی گزر سکیں گے۔دراصل رسول کریم می نے بتایا ہے کہ جنت میں ایسے نازک رستے سے گزر کر جانا پڑتا ہے کہ انسان ہو شیار نہ ہو تو دوزخ میں گرنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اس صورت میں اگر اگلے جہان میں اس کی تمثیل بھی ہو جائے تو کیا ہے۔وہ ماضی کا ایک نظارہ ہو گا جو دکھایا جائے گا۔وگر نہ رسول کریم میر نے اس میں یہ بتایا ہے کہ مومن کو دنیا میں ہوشیار رہنا چاہئے۔وہ کوئی نیکی نہ چھوڑے اور استقلال کے ساتھ سب نیکیاں کرتا رہے۔اور کبھی یہ نہ خیال کرے کہ میں نے جو کچھ کر لیا ہے کافی ہے۔مؤمن کے لئے ہوشیار رہنا، ساری نیکیاں کرنا اور پھر استقلال دکھانا بہت ضروری ہے۔میں نے اپنے دوستوں کے متعلق دیکھا ہے کہ اکثر میں استقلال کم ہے۔اگر تبلیغ کرنے کا اعلان کیا جائے تو کرنے لگیں گے۔مگر دوسری نیکیاں مثلاً اہل محلہ کی خبر گیری نماز چندوں کا خیال اتنا نہیں رکھتے۔اور اگر کسی وقت چندہ کے لئے کہا جائے تو اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے چندہ کا ہی ذکر رہے گا۔نہ نماز کا خیال رہے گا نہ روزہ کا نہ تبلیغ کا۔صرف چندہ کسی اجر کا باعث نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ